نئی دہلی: قومی دارالحکومت دہلی میں ہونے والے 18ویں برکس (BRICS) سربراہی اجلاس کے پیش نظر دہلی حکومت نے بڑا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت نے 11 ستمبر 2026، جمعہ کو عام تعطیل کا اعلان کیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت دہلی حکومت کے ماتحت تمام سرکاری دفاتر، خود مختار ادارے اور پبلک سیکٹر یونٹس (PSU) اس دن بند رہیں گے۔ حکومت کے اس فیصلے کے باعث دہلی کے لوگوں کو مسلسل تین دن کی چھٹی ملنے کی بھی توقع ہے۔ سرکاری حکام کے مطابق، برکس اجلاس کے دوران دارالحکومت میں سکیورٹی اور انتظامی انتظامات کو مؤثر طریقے سے برقرار رکھنے کے لیے یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔
تمام سرکاری اداروں میں رہے گی چھٹی
دہلی حکومت کے جنرل ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ کی کوآرڈی نیشن برانچ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق، لیفٹیننٹ گورنر نے قومی دارالحکومت خطہ دہلی حکومت کے ماتحت آنے والے تمام سرکاری دفاتر، خود مختار اداروں اور پبلک سیکٹر کے اداروں میں 11 ستمبر کو تعطیل کی منظوری دی ہے۔ اس دن ان اداروں میں معمول کی سرکاری سرگرمیاں اور دفتری کام نہیں ہوں گے۔ حکومت نے برکس اجلاس کے پیش نظر انتظامی سطح پر ضروری تیاریاں بھی شروع کر دی ہیں۔ سرکاری حکم نامے میں واضح کیا گیا ہے کہ برکس سربراہی اجلاس کے انعقاد اور اس سے متعلق انتظامات کو مدنظر رکھتے ہوئے 11 ستمبر کو تعطیل کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اجلاس میں مختلف ممالک کے اعلیٰ لیڈروں اور نمائندوں کی شرکت متوقع ہے، جس کے باعث دارالحکومت میں سکیورٹی کے وسیع انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ اجلاس کے دوران دہلی کے متعدد علاقوں میں ٹریفک کا نظام بھی متاثر ہونے کا امکان ہے۔ سکیورٹی ایجنسیوں کی بڑی تعداد میں تعیناتی کی جائے گی، جبکہ اہم مقامات اور حساس علاقوں میں نگرانی مزید سخت کی جا سکتی ہے۔
ٹریفک اور آمدورفت پر بھی پڑ سکتا ہے اثر
برکس سربراہی اجلاس کے دوران غیر ملکی مہمانوں کی آمدورفت اور سکیورٹی پروٹوکول کے باعث شہر کی بعض اہم سڑکوں پر ٹریفک کی رفتار متاثر ہونے اور مخصوص راستوں پر عارضی پابندیاں عائد کیے جانے کا امکان ہے۔ حکومت نے انتظامات کو ہموار رکھنے کے لیے تعطیل کا اعلان کیا ہے تاکہ سرکاری اداروں میں معمول کی آمدورفت کم رہے اور سکیورٹی ایجنسیوں کو بھی اجلاس کے دوران بہتر انتظام کرنے میں سہولت مل سکے۔ دہلی کے شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ اگر انہیں سرکاری دفاتر سے متعلق کوئی ضروری کام ہے تو وہ 11 ستمبر سے پہلے اسے مکمل کرلیں۔ تعطیل کے فیصلے سے سرکاری اداروں میں کام کرنے والے ملازمین کے ساتھ ساتھ عام شہریوں کی روزمرہ سرگرمیوں پر بھی اثر پڑنے کا امکان ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


