ممبئی کی رضا اکیڈمی اور آل انڈیا سنی جمعیۃ علماء کے سکریٹری مولانا خلیل الرحمان نے یوپی کے وزیر مملکت رگھوراج سنگھ کے بیان پر سخت پلٹ وار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے لوگ گندی’نالی کے کیڑے’ ہیں۔ یہ لوگ معاشرے کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔مولانا خلیل الرحمان ہولی پر نماز جمعہ کے حوالے سے جاری بیانات پر رگھوراج سنگھ کے بیان پر برہم ہوگئے اور کہا کہ “ان لوگوں کے دماغ میں زہر ہے، یہ ملک کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، ان کو گندی نالی کا کیڑا کہیے جو ایسے بیانات دے رہے ہیں، چاہے وہ وزیر ہوں یا کچھ اور، یہ وہ لوگ ہیں جو سماج میں فرقہ واریت پھیلانا چاہتے ہیں۔
آپ کو بتادیں کہ ہولی کا تہوار 14 مارچ کو ملک بھر میں منایا جائے گا۔ اس وقت رمضان کا مہینہ چل رہا ہے اور 14 مارچ بروز جمعہ ہے۔ رمضان المبارک میں نماز جمعہ کی اپنی اہمیت ہے۔اس لئے کئی مقامات پر ماحول کے خراب ہونے کا خدشہ ہے اور بی جے پی کے کئی لیڈران نے ایسے ایسے بیانات دیے ہیں جس کی وجہ سے حالات مزید خراب ہوگئے ہیں۔
واضح رہے کہ یوپی کے وزیر مملکت رگھوراج سنگھ نے 10 مارچ کو کہا تھا کہ انتظامیہ ہولی اور جمعہ کی نماز کے پیش نظر الرٹ پرہے، لیکن کچھ لوگوں کو اس پر اعتراض ہے۔ ایسے لوگوں سے میری گزارش ہے کہ جس طرح ان کی خواتین حجاب کرتی ہیں اور مساجد کو ترپال سے ڈھانپا جاتا ہے، ویسے ہی وہ لوگ بھی ترپال کا حجاب بنا کر آ جا سکتے ہیں۔ اس سے انہیں کوئی پریشانی نہیں ہوگی اور وہ آسانی سے نماز پڑھ سکیں گے۔
وزیر نے کہا تھا کہ ترپال کا حجاب پہننا اس بات کو یقینی بنائے گا کہ ان کی ٹوپی گیلی نہ ہو۔ انہوں نے کہا تھا کہ ہندوؤں کو کسی قسم کی تکلیف کا سامنا نہیں کرنا چاہیے۔ اس سے پہلے، سنبھل کے سی او انوج چودھری نے کہا تھا کہ جو لوگ ہولی کے رنگوں سے بے چینی محسوس کرتے ہیں انہیں گھر کے اندر ہی رہنا چاہیے کیونکہ یہ تہوار سال میں صرف ایک بار آتا ہے، جبکہ جمعہ کی نماز سال میں 52 بار ادا کی جاتی ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

