Bharat Express DD Free Dish

Ahmedabad: ایسٹر کی تقریب میں لاٹھیوں کے ساتھ ’’جے شری رام‘‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے گھسے ہندوتوا گروپ کے کارکنان، کہا-تقریب میں ہو رہی تھی ’’مذہب کی تبدیلی‘‘

ہندوتوا گروپوں وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل نے اتوار کو گجرات کے احمد آباد ضلع کے ایک نجی ہال میں عیسائیوں کے تہوار ایسٹر کے موقع پر منعقد ہونے والی ایک دعائیہ میٹنگ پر یہ الزام لگاتے ہوئے دھاوا بول دیا کہ اس تقریب میں ہندوؤں کا مذہب تبدیل کروایا جا رہا تھا۔

ہندوتوا گروپوں وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل نے اتوار کو گجرات کے احمد آباد ضلع کے ایک نجی ہال میں عیسائیوں کے تہوار ایسٹر کے موقع پر منعقد ہونے والی ایک دعائیہ میٹنگ پر یہ الزام لگاتے ہوئے دھاوا بول دیا کہ اس تقریب میں ہندوؤں کا مذہب تبدیل کروایا جا رہا تھا۔ اس واقعے کے بعد احمد آباد پولیس نے کہا ہے کہ 10 افراد کے خلاف پہلی معلوماتی رپورٹ درج کی گئی ہے اور یہ تحقیقات جا رہی ہیں۔ تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ ایف آئی آر کس کے خلاف درج کی گئی ہیں۔

یہ کارروائی اس واقعے کی ایک ویڈیو سوشل پر وسیع پیمانے پر گردش کرنے کے بعد کی گئی ہے، جس میں دو ہندوتوا گروپوں کے کارکنان کو لاٹھیاں اٹھائے ہوئےہال کے اندر ’’جے شری رام‘‘ اور ’’ہر ہر مہادیو‘‘ کے نعرے لگاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ انسپکٹر پی این زنزوادیا نے انڈین ایکسپریس کو بتایا کہ یہ واقعہ اتوار کی صبح احمد آباد ضلع کے اودھو علاقے میں اس وقت پیش آیا جب تقریباً 100 عیسائی ہال کے اندر ایسٹر کی تقریب میں شرکت کر رہے تھے۔

ہندوتوا گروپس نے تقریب میں مذہبی تبدیلی کا الزام لگایا

بجرنگ دل اور وشو ہندو پریشد کے کارکنوں کے ہال میں گھسنے کے فوراً بعد پولس کو بلایا گیا اور پولیس کے مطابق دونوں اطراف کے نمائندوں کو بعد میں اسٹیشن لے جایا گیا۔ انڈین ایکسپریس نے نامعلوم پولیس افسران کے حوالے سے بتایا کہ ہندوتوا گروپس کے کارکنوں نے الزام لگایا کہ تقریب میں لوگوں کا مذہب تبدیل کروایا جا رہا تھا اور انھوں نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ اس تقریب میں کتنے ہندو شامل تھے۔

زنزوواڈیا نے وی ایچ پی اور بجرنگ دل کے ساتھ ساتھ عیسائی برادری کی طرف سے بھی شکایات موصول ہوئی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ بجرنگ دل کے ایک کارکن درشن جوشی نے ایک درخواست جمع کرائی ہے جس میں مبینہ طور پر تقریب میں ہونے والی ’’مذہب کی تبدیلی‘‘ کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ تاہم پولیس کو تقریب میں اس کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔ وہیں تقریب میں شامل ایمانوئل امی داس نامی ایک شخص نے تقریباً 10 سے 15 نامعلوم افراد کے خلاف بھی شکایت درج کرائی ہے، جو اس تقریب میں گھس آئے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔