احمد آباد: گجرات ہائی کورٹ نے ریاست میں وقف املاک سے جڑے تنازعات کے حوالے سے ایک اہم فیصلہ سنایا ہے۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ اب وقف ٹریبونل میں دائر کیے جانے والے تمام مقدمات میں کورٹ فیس کی ادائیگی لازمی ہوگی۔ اس فیصلے کو گجرات کے نائب وزیر اعلیٰ ہرش سنگھوی نے بدھ کے روز تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ قدم “سب کے لیے ایک جیسا قانون” نافذ کرنے کی سمت میں ایک مضبوط پیش رفت ہے۔ عدالت کے مطابق پرانے وقف ایکٹ میں کورٹ فیس کے حوالے سے کوئی واضح شق موجود نہیں تھی، جس کے باعث وقف ٹریبونل میں مقدمات بغیر فیس کے دائر ہو رہے تھے۔ اس صورتحال نے نہ صرف غیر سنجیدہ اور فرضی دعووں کو بڑھاوا دیا بلکہ ٹریبونل میں زیر التوا مقدمات کی تعداد میں بھی نمایاں اضافہ ہوا۔ ہائی کورٹ کے تازہ فیصلے کے بعد اب ایسے معاملات میں فیس کی ادائیگی ضروری ہوگی، جس سے صرف حقیقی اور سنجیدہ مقدمات ہی عدالت تک پہنچ سکیں گے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ قانون کی نظر میں کوئی بھی فریق بالا تر نہیں ہے اور سب کو یکساں قانونی عمل سے گزرنا ہوگا۔ اس فیصلے سے چھوٹے مذہبی مقامات سے لے کر بڑی مساجد تک، تمام وقف املاک کے انتظام اور نگرانی کے نظام پر اثر پڑے گا اور شفافیت میں اضافہ ہوگا۔ عدالت کا ماننا ہے کہ اس سے مقدمات کے جلد از جلد تصفیے میں مدد ملے گی اور ٹریبونل پر غیر ضروری بوجھ کم ہوگا۔
نائب وزیر اعلیٰ ہرش سنگھوی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ہائی کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کیا۔ انہوں نے کہا، ”قانون کی نظر میں سب برابر ہیں۔ یہ فیصلہ انصاف کے نظام کو مضبوط کرے گا اور فرضی دعووں پر روک لگائے گا۔ ریاستی حکومت وقف املاک کے بہتر انتظام، شفافیت اور جوابدہی کے لیے پوری طرح پرعزم ہے“۔ سنگھوی نے کانگریس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وقف قانون کو ووٹ بینک کی سیاست کے تحت اس طرح نافذ کیا گیا تھا کہ وقف املاک اور ٹریبونل مقدمات کو کورٹ فیس سے استثنیٰ حاصل تھا، جبکہ مندروں، گردواروں اور دیگر مذہبی اداروں سے متعلق جائیداد کے معاملات میں کورٹ فیس وصول کی جاتی رہی۔ ان کے مطابق یہ عدم مساوات اب ختم ہو گئی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ گجرات ہائی کورٹ نے اس معاملے میں 150 سے زائد مختلف عرضیوں کی ایک ساتھ سماعت کی۔ ان عرضیوں میں وقف ٹریبونل میں سماعت سے قبل کورٹ فیس کی شرط کو چیلنج کیا گیا تھا۔ عدالت نے تمام اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے واضح ہدایت دی کہ آئندہ وقف ٹریبونل میں دائر ہونے والے مقدمات میں کورٹ فیس ادا کرنا لازمی ہوگا۔ یہ فیصلہ ریاست میں قانونی مساوات اور عدالتی نظم و نسق کے حوالے سے ایک اہم سنگ میل سمجھا جا رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


