Bharat Express DD Free Dish

GST cut to save Rs 1–1.5 trillion by 2030 for RE sector: پرہلاد جوشی: جی ایس ٹی میں کمی سے قابل تجدید توانائی کے شعبے کو 2030 تک 1 سے 1.5 لاکھ کروڑ روپے کی بچت ہوگی

حکومت کے مطابق، قابلِ تجدید توانائی کی پوری ویلیو چین پر جی ایس ٹی کو 12 فیصد سے کم کر کے 5 فیصد کرنے سے منصوبوں کی لاگت میں نمایاں کمی آئے گی، جس کے باعث بجلی سستی ہو گی اور صارفین کو براہِ راست فائدہ پہنچے گا۔

نئے اور قابلِ تجدید توانائی کے مرکزی وزیر پرہلاد جوشی نے پیر کو کہا کہ قابلِ تجدید توانائی کی ویلیو چین پر جی ایس ٹی کی شرح کو 12 فیصد سے کم کرکے 5 فیصد کرنے سے 2030 تک ملک کو 1 سے 1.5 لاکھ کروڑ روپے تک کی بچت ہو گی، جبکہ 2030 تک 500 گیگاواٹ (GW) قابلِ تجدید توانائی کی صلاحیت کا ہدف حاصل کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا،”تقریباً 248 گیگاواٹ کے اضافی ہدف کو آئندہ پانچ برسوں میں نصب کیا جائے گا، اور اس دوران جی ایس ٹی میں اس کمی کے باعث 1 سے 1.5 لاکھ کروڑ روپے کی بچت ممکن ہو گی، جو کہ ایک بہت بڑا فائدہ ہے۔”

بجلی کی قیمتوں میں کمی، صارفین کو براہِ راست فائدہ

حکومت کے مطابق، قابلِ تجدید توانائی کی پوری ویلیو چین پر جی ایس ٹی کو 12 فیصد سے کم کر کے 5 فیصد کرنے سے منصوبوں کی لاگت میں نمایاں کمی آئے گی، جس کے باعث بجلی سستی ہو گی اور صارفین کو براہِ راست فائدہ پہنچے گا۔

وزارتِ نئی و قابلِ تجدید توانائی کے مطابق، یوٹیلیٹی سکیل سولر منصوبے، جن کی لاگت عام طور پر 3.5 سے 4 کروڑ روپے فی میگاواٹ ہوتی ہے، اب فی میگاواٹ 20 سے 25 لاکھ روپے کی بچت دے سکیں گے۔ اگر 500 میگاواٹ کے سولر پارک کی بات کی جائے، تو منصوبے کی لاگت میں 100 کروڑ روپے سے زائد کی بچت ممکن ہو گی، جس سے بجلی کے نرخ زیادہ مسابقتی بن جائیں گے۔

اسی طرح، ایک عام 3 کلو واٹ کا روف ٹاپ سولر سسٹم اب تقریباً 9,000 سے 10,500 روپے سستا ہو جائے گا، جو “پی ایم سوریا گھر: مفت بجلی یوجنا” کے تحت بڑے پیمانے پر اختیار کرنے کو رفتار دے گا۔

دیسی سولر ویلیو چین کو فروغ دینے کی تیاری

حکومت اب مکمل “سودیشی” (دیسی) سولر ویلیو چین تیار کرنے کے لیے منصوبہ بندی کر رہی ہے، جس میں ویفرز، انگٹس اور پولی سلیکون کی مقامی پیداوار شامل ہو گی۔ اس کے لیے حکومت Viability Gap Funding (VGF) اور Production Linked Incentive (PLI) جیسے اسکیموں پر غور کر رہی ہے تاکہ گھریلو مینوفیکچرنگ کو فروغ ملے۔

پرہلاد جوشی نے CII کی چھٹی انٹرنیشنل انرجی کانفرنس میں کہا:”ہم انگٹس، ویفر اور پولی سلیکون کے لیے ایک راستہ بنا رہے ہیں، اور جلد ہی ہم VGF یا PLI جیسی اسکیموں کے ساتھ سامنے آئیں گے۔”

ALMM کی توسیع: ویفرز اور انگٹس کے لیے بھی فہرست زیر غور

وزارت، سولر ماڈیولز کی طرح، ویفرز اور انگٹس کے لیے بھی “Approved List of Models and Manufacturers (ALMM)” جیسی فہرست تیار کرنے پر کام کر رہی ہے، تاکہ ان مصنوعات کی مقامی پیداوار کو فروغ دیا جا سکے۔

وزارت نے ویفرز کے لیے “ALMM لسٹ III” کے نفاذ کا مسودہ جاری کر دیا ہے، جو کہ یکم جون 2028 سے نافذ العمل ہو گا۔ البتہ یہ فہرست صرف اسی وقت جاری کی جائے گی جب ملک میں تین آزاد مینوفیکچرنگ یونٹس موجود ہوں گے جن کی مجموعی پیداواری صلاحیت 15 گیگاواٹ ہو۔

فی الوقت، بھارت کی ویفر پیداواری صلاحیت صرف 2.2 گیگاواٹ ہے، اور ملک اس شعبے میں چین پر سخت انحصار کرتا ہے۔

ALMM ایک ایسی فہرست ہے جس میں صرف ان ماڈلز اور مینوفیکچررز کو شامل کیا جاتا ہے، جن سے سولر پراجیکٹ ڈویلپرز کو سولر ساز و سامان خریدنے کی اجازت ہوتی ہے۔ فی الحال، ALMM صرف سولر ماڈیولز پر لاگو ہے، جبکہ اسے اگلے سال جون سے سولر سیلز پر بھی نافذ کیا جائے گا۔

بھارت ایکریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read