نئی دہلی، 28 اکتوبر: حکومت ہند نے پیر کے روز راشٹریہ وگیان پرسکار 2025 کے فاتحین کا اعلان کیا، جس کے تحت 24 ممتاز سائنسدانوں اور ایک تحقیقی ٹیم کو مختلف سائنسی شعبوں میں غیر معمولی خدمات کے اعتراف میں ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔ یہ ایوارڈ سائنس اور ٹیکنالوجی میں قومی سطح پر اعلیٰ کارکردگی کو تسلیم کرنے والا سب سے بڑا اعزاز تصور کیا جا رہا ہے۔ یہ دوسرا ایڈیشن ہے، جو حکومت کے وژن ‘وکسِت بھارت تھرو وگیان’ کی عملی تعبیر ہے، ایک ایسا بھارت جو سائنسی اختراعات اور ٹیکنالوجیکل ترقی سے آگے بڑھ رہا ہے۔
وگیان رتن: سائنس کا سب سے بڑا اعزاز
ایوارڈز میں سب سے نمایاں وگیان رتن ہے، جو سائنس اور ٹیکنالوجی میں عمر بھر کی خدمات پر دیا جانے والا اعلیٰ ترین اعزاز ہے۔ یہ ایوارڈ ہر سال نیشنل اسپیس ڈے (23 اگست) کو دیا جاتا ہے۔ وگیان رتن کو ملک کے سب سے بڑے شہری اعزاز بھارت رتن کے مساوی سمجھا جاتا ہے، تاہم یہ صرف سائنسی خدمات تک محدود ہے۔ یہ اعزاز پہلی بار 2024 میں مشہور بایو کیمسٹ ڈاکٹر گووندراجن پدمانابھن کو دیا گیا تھا، جنہوں نے ملیریا کے جرثومے پر اپنی تحقیق کے ذریعے عالمی سطح پر دوا کے خلاف مزاحمت کے مسئلے پر نئی راہیں کھولیں۔
دیگر زمرے اور فاتحین
وگیان رتن کے علاوہ تین دیگر زمروں میں بھی ایوارڈ دیے گئے — وگیان شری کے تحت آٹھ سینئر محققین کو طویل المدتی سائنسی اثرات کے لیے نوازا گیا، جن کے کام میں کوانٹم میٹریل سے لے کر پائیدار زراعت تک کے شعبے شامل ہیں۔ وگیان یُووا- شانتی سروپ بھٹناغر ایوارڈ کے تحت 45 سال سے کم عمر کے 14 نوجوان سائنسدانوں کو ان کی جدت طرازی اور تحقیق کے لیے اعزاز ملا۔ یہ ایوارڈ معروف بھٹناگر پرائز کی جدید شکل ہے، جس کا مقصد ملک کے ابھرتے ہوئے سائنسدانوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔
ٹیم ایوارڈ اور کسانوں کو فائدہ
سی ایس آئی آر اروما مشن کو وگیان ٹیم ایوارڈ سے نوازا گیا، جس نے ملک کے 26 ریاستوں میں 50 ہزار سے زائد کسانوں کو لیونڈر، لیمن گراس اور روزمیری جیسی خوشبودار فصلوں کی جدید اقسام فراہم کر کے ان کی آمدنی میں زبردست اضافہ کیا۔ اس مشن کے تحت 60 ہزار ہیکٹر رقبے پر کاشت کاری کو فروغ ملا، جس سے 2017 سے اب تک 1,200 کروڑ روپے سے زائد کی دیہی آمدنی پیدا ہوئی۔
اختراعی تحقیق کی مثالیں
وگیان شری کے فاتحین میں ایک ماحولیاتی سائنسدان شامل ہیں جنہوں نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے مون سون کی پیش گوئی میں 18 فیصد فصلی نقصان کم کیا۔ ایک دیگر محقق زرعی فضلے سے بایوڈیگریڈیبل پلاسٹک تیار کر رہے ہیں۔ وگیان یُووا ایوارڈ حاصل کرنے والوں میں ایک 38 سالہ ماہر فلکیات شامل ہیں جو پونے کے جائنٹ میٹر ویو ریڈیو ٹیلی سکوپ پر تیز ریڈیو لہروں کا مطالعہ کر رہے ہیں، جبکہ ایک 41 سالہ بائیوٹیکنالوجسٹ نمک برداشت کرنے والی دھان کی نئی اقسام تیار کر رہے ہیں۔
شفاف نظام کے تحت ایک متحد ایوارڈ
2023 میں شروع ہونے والا راشٹریہ وگیان پرسکار، ملک کے 16 پرانے سائنسی ایوارڈز کو ایک متحد اور شفاف نظام کے تحت لایا ہے۔ یہ 300 رکنی کمیٹی کے ذریعے منتخب کیے جاتے ہیں جس کی سربراہی پرنسپل سائنٹیفک ایڈوائزر اجے کمار سود کر رہے ہیں۔
ایوارڈز میں ایک سنَد، تعریفی سرٹیفیکیٹ اور پنج دھاتو کا تمغہ شامل ہوگا، جو صدر دروپدی مرمو 28 فروری 2026 کو نیشنل سائنس ڈے کے موقع پر راشٹرپتی بھون میں پیش کریں گی۔ حکومت نے کہا کہ جیسے جیسے بھارت 2047 تک ایک ایک ٹریلین ڈالر ریسرچ اکانومی بننے کی جانب بڑھ رہا ہے، راشٹریہ وگیان پرسکار نہ صرف سائنسی کامیابیوں کا جشن ہے بلکہ اس بات کا اعلان بھی کہ “سائنس ہی ترقی یافتہ بھارت کی بنیاد ہے”۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔





