Bharat Express DD Free Dish

Turkiye Boycott: حکومت نے IndiGo سے کہا-تین مہینے کے اندر ختم کرو ترکش ایئرلائنز کے ساتھ اپنا معاہدہ

یہ کارروائی حکومت کی جانب سے ایک ترک فرم Celebi Aviation کے لیے سیکیورٹی کلیئرنس منسوخ کرنے کے چند ہفتے بعد سامنے آئی ہے۔

آپریشن سندور کے دوران ترکی کی طرف سے پاکستان کی حمایت کے خلاف ترکی کو ایک سخت پیغام دیتے ہوئے مرکزی حکومت نے IndiGo سے کہا ہے کہ وہ ترکش ایئر لائنز کے ساتھ اپنے طیاروں کے لیز کے معاہدے کو تین ماہ کے اندر ختم کرے۔ یہ کارروائی حکومت کی جانب سے ایک ترک فرم Celebi Aviation کے لیے سیکیورٹی کلیئرنس منسوخ کرنے کے چند ہفتے بعد سامنے آئی ہے، جو دہلی سمیت ہندوستان کے نو اہم ہوائی اڈوں پر خدمات کو سنبھالتی تھی۔

IndiGo، جس نے ترکش ایئر لائنز سے دو بوئنگ 777 لیز پر لیے ہیں۔ اس کے پاس 31 مئی تک ایسا کرنے کا اجازت نامہ تھا اور اس نے شہری ہوا بازی کی وزارت سے چھ ماہ کے لیے اس میں توسیع کی درخواست کی تھی۔ تاہم وزارت نے اس کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ لیکن ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’فوری طور پرواز میں خلل کی وجہ سے مسافروں کو تکلیف سے بچانے کے لیے IndiGo کو 31 اگست تک تین ماہ کی توسیع دی گئی ہے۔‘‘ بیان میں واضح کر دیا گیا ہے کہ اس میں مزید توسیع نہیں کی جائے گی۔

بیان میں کہا گیا ہے ’’انڈیگو کو 31.08.2025 تک تین ماہ کی آخری توسیع دی گئی ہے، ایئر لائن کے اس وعدے کی بنیاد پر کہ وہ اس توسیعی مدت کے اندر ترکش ایئر لائنز کے ساتھ ڈیمپ لیز ختم کر دیں گے اور مزید توسیع نہیں مانگیں گے۔‘‘ واضح رہے کہ IndiGo کا ترکش ایئر لائنز کے ساتھ کوڈ شیئر کا معاہدہ بھی ہے، تاہم ایئر لائن کے سی ای او پیٹر ایلبرس نے کہا تھا کہ وہ ہندوستانی قوانین کے مطابق ہے اور ضرورت پڑنے پر وہ تبدیلی کرنے کو تیار ہیں۔ اس سے قبل 15 مئی کو مرکز نے ترکش فرم سیلبی ایوی ایشن کے لیے سیکورٹی کلیئرنس منسوخ کر دی تھی۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read