گوندیا کے رام نگر علاقے میں واقع ’نیو بالاجی اسپتال‘ سے جڑا ایک سنسنی خیز معاملہ سامنے آیا ہے۔ خدا کا درجہ پانے والے ڈاکٹروں نے چند پیسوں کی خاطر نومولود بچوں کی خرید و فروخت کی اور نابالغ لڑکیوں کی زندگیوں کے ساتھ کھلواڑ کیا۔ بھنڈارا پولیس کی تحقیقات کے مطابق، اس اسپتال کی آڑ میں غیر قانونی اسقاطِ حمل، نابالغ لڑکیوں کی ڈلیوری اور پھر ان نومولود بچوں کو لاکھوں روپے میں فروخت کرنے کا ایک گھناونا ریکیٹ چلایا جا رہا تھا۔ پولیس نے فروخت کیے گئے دو معصوم بچوں کو ریسکیو کرکے چائلڈ ویلفیئر کمیٹی کے حوالے کر دیا ہے۔
غریب خواتین کو ایسے بنایا جاتا تھا شکار
اس گینگ کے حوصلے اس قدر بلند تھے کہ ’بائی گنگابائی سرکاری خواتین اسپتال‘ میں آنے والی غریب خواتین کو نشانہ بنایا جاتا تھا۔ دلال اور ملزم ڈاکٹر ان خواتین کو بہلا پھسلا کر نیو بالاجی اسپتال لے آتے تھے۔انہیں ڈرایا جاتا تھا کہ ان کے پیٹ میں پل رہے بچے کی حالت سنگین ہے اور کم خرچ میں اس نجی اسپتال میں ڈلیوری کرا دی جائے گی۔کچھ خواتین کی کمزور معاشی حالت دیکھ کر ان سے کہا جاتا تھا کہ ان کا بچہ کمزور ہے، اس لیے اسے کسی این جی او (NGO) کے حوالے کر دیا جائے۔ بعد میں انہی بچوں کو بھاری قیمتوں پر فروخت کر دیا جاتا تھا۔
1001 خواتین کی صحت کے ساتھ کھلواڑ
تحقیقات آگے بڑھنے پر اسپتال کے ایک اور بڑے گھپلے کا انکشاف ہوا، جو غیر قانونی سونوگرافی سینٹر سے متعلق تھا۔ ستمبر 2025 میں مرکزی ملزم ڈاکٹر نتیش باجپئی نے ریڈیولوجسٹ ڈاکٹر خوشال گھوڈیسوار کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا تاکہ سرکاری اسکیم کے تحت حاملہ خواتین کی سونوگرافی کی جا سکے۔ قواعد کے مطابق سونوگرافی صرف ڈاکٹر خوشال ہی کر سکتے تھے، جس کی اجازت ضلع سرجن ڈاکٹر پروشوتم پاٹل نے دی تھی۔لیکن ڈاکٹر نتیش باجپئی نے بڑی جعلسازی کرتے ہوئے ڈاکٹر خوشال کے سرٹیفکیٹ پر ڈاکٹر وویک ییلے کا نام شامل کر دیا۔ اس کے بعد ڈاکٹر خوشال کو بلائے بغیر ہی گزشتہ 8 مہینوں میں سرکاری اسپتال سے بھیجی گئی 1001 حاملہ خواتین کی سونوگرافی خود ڈاکٹر نتیش باجپئی اور ڈاکٹر وویک ییلے نے انجام دی۔ طبی اصولوں کے مطابق ایک ماہرِ امراضِ نسواں تکنیکی طور پر پیچیدہ سونوگرافی نہیں کر سکتا۔ معاملہ سامنے آنے کے بعد 15 اپریل 2026 کو اس سونوگرافی سینٹر کا لائسنس منسوخ کر دیا گیا۔
انسٹاگرام سے ملے پختہ ثبوت
ڈاکٹر وویک ییلے ’بائی گنگابائی سرکاری خواتین اسپتال‘ میں کنٹریکٹ بنیاد پر گائناکولوجسٹ کے طور پر تعینات تھے۔ سرکاری قوانین کے مطابق کنٹریکٹ پر کام کرنے والے ڈاکٹر کسی نجی اسپتال میں پریکٹس یا خدمات نہیں دے سکتے، لیکن وہ نیو بالاجی اسپتال کے اس کالے دھندے میں شریک تھے۔رام نگر پولیس کی جانچ میں سامنے آیا کہ ایک نابالغ لڑکی کی ڈلیوری کے وقت مرکزی ملزم ڈاکٹر نتیش باجپئی، ڈاکٹر وویک ییلے اور راجےگاؤں اسپتال سے ریٹائرڈ ڈاکٹر آشا اگروال موجود تھیں۔ ان لوگوں نے نہ صرف ڈلیوری کرائی بلکہ بچے کی فروخت میں بھی مدد کی اور پولیس سے یہ بات چھپائی۔ اس کے پختہ ڈیجیٹل ثبوت خود مرکزی ملزم ڈاکٹر نتیش باجپئی نے اپنے انسٹاگرام پیج پر ڈال رکھے تھے، جہاں یہ ڈاکٹر اسپتال میں ڈلیوری کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔
انتظامیہ کی سخت کارروائی
معاملہ بے نقاب ہونے کے بعد انتظامیہ نے سخت قدم اٹھائے ہیں۔ گوندیا میڈیکل کالج کے ڈین ڈاکٹر کُسماکر گھورپڑے نے ڈاکٹر وویک ییلے کو ملازمت سے معطل کر دیا ہے۔ ضلع سرجن ڈاکٹر پروشوتم پاٹل نے ’نیو بالاجی اسپتال‘ کا لائسنس ہمیشہ کے لیے منسوخ کر دیا ہے۔گرفتاری کے خوف سے ڈاکٹر باجپئی نے اسپتال کی سونوگرافی اور ڈلیوری سے متعلق تمام ریکارڈ تباہ کر دیے تھے۔ فی الحال پولیس نے اس معاملے میں مرکزی ملزم ڈاکٹر نتیش باجپئی سمیت 10 ملزمان کے خلاف عدالت میں چارج شیٹ داخل کر دی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


