ممبئی: اڈانی گروپ کے چیئرمین گوتم اڈانی نے پیرکے روزکہا کہ کھاوڑا رینیوایبل انرجی پارک اورمندرا وِزِنجم پورٹ جیسے بڑے منصوبے صرف بنیادی ڈھانچے کی صلاحیت میں اضافہ نہیں کرتے بلکہ اپنے آس پاس کی معیشت میں بھی بڑی تبدیلی لاتے ہیں۔ ریٹنگ ایجنسی کیئرایج گروپ کے سالانہ سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے گوتم اڈانی نے کہا کہ ہندوستان اب ایک بالکل نئے دورمیں داخل ہوچکا ہے۔ ملک میں انفرا اسٹرکچرکی نوعیت تبدیل ہو رہی ہے اورجس رفتاراورپیچیدگی کے ساتھ ہندوستان نئے منصوبے تیارکررہا ہے، اسی کے مطابق ریٹنگ فریم ورک کو بھی ترقی کرنی ہوگی۔ انہوں نے کہا، ’’اگرہم صرف آج کی طلب کومدنظررکھ کرتعمیرکریں گے توہندوستان مستقبل کے مواقع سے فائدہ اٹھانے میں ہمیشہ پیچھے رہ جائے گا۔‘‘
مندرا پورٹ نے تیارکیا وسیع اقتصادی نظام
گوتم اڈانی نے کہا کہ آج گجرات کا مندرا پورٹ ہندوستان کی سب سے بڑی بندرگاہ ہے، لیکن تقریباً تین دہائی قبل روایتی ریٹنگ کے پیمانوں کے مطابق اسے ایک ایسے دلدلی علاقے کے طور پر مسترد کیا جا سکتا تھا جہاں کوئی صنعتی نظام موجود نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ آج مندرا ہندوستان کے اہم ترین تجارتی دروازوں میں شامل ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اس بندرگاہ نے اپنے حجم سے کئی گنا بڑا اقتصادی نظام تیار کیا ہے۔ اڈانی نے وضاحت کی کہ بندرگاہ ریلوے سے جڑی ہے، ریلوے لاجسٹکس مراکز سے مربوط ہے، لاجسٹکس بجلی گھروں سے اور بجلی گھر صنعتی زون سے جڑے ہیں۔ یہ صنعتی زون پورے ہندوستان کے تاجروں اور صنعت کاروں سے منسلک ہیں۔
وِزِنجم پورٹ کو 25 سال تک نہیں ملی دلچسپی
گوتم اڈانی نے کیرالہ کے وِزِنجم پورٹ پروجیکٹ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ تقریباً 25 سال تک کسی نے اس منصوبے میں دلچسپی نہیں دکھائی، کیونکہ اسے انتہائی مشکل اورسرمایہ کاری کے لحاظ سے بہت زیادہ خطرناک سمجھا جاتا تھا، حالانکہ ملک کو گہرے پانی کی بندرگاہ کی شدید ضرورت تھی۔ انہوں نے کہا کہ اڈانی گروپ نے آگے بڑھ کراس منصوبے کومکمل کیا۔ اڈانی کے مطابق ہندوستان دنیا کے مصروف ترین شپنگ روٹ سے محض 10 ناٹیکل میل دور ہونے کے باوجود اپنے کنٹینرکارگوکو براہ راست سنبھالنے کی صلاحیت نہیں رکھتا تھا۔ ہندوستانی تاجروں کو سنگاپور، دبئی اور کولمبو کے راستے ٹرانس شپمنٹ کرنا پڑتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کئی دہائیوں تک ہندوستانی تجارت کوغیرملکی بندرگاہوں پرانحصار کرنا پڑا، کیونکہ ملکی انفرا اسٹرکچر کو ادارہ جاتی سرمایہ کاری کے لیے بہت زیادہ خطرناک سمجھا جاتا تھا۔
کھاوڑا صرف رینیوایبل انرجی پروجیکٹ نہیں: اڈانی
گوتم اڈانی نے کہا کہ روایتی نقطہ نظرسے دیکھا جائے توکھاوڑا پروجیکٹ بھی ایک سخت ریگستان میں قائم انتہائی مشکل منصوبہ نظرآتا ہے، جہاں تعمیرمکمل کرنے کے خطرات کے ساتھ مستقبل کی طلب کے حوالے سے بھی غیر یقینی صورتحال موجود ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کی اصل اہمیت اکثرنظراندازکردی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’کھاوڑا صرف ایک رینیوایبل انرجی پروجیکٹ نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں توانائی، مصنوعی ذہانت (اے آئی)، مینوفیکچرنگ، ڈیجیٹل انفرا اسٹرکچراورصنعتی صلاحیت غیرمعمولی پیمانے پرایک ساتھ آتے ہیں۔‘‘ ان کے مطابق کھاوڑا ہندوستان کے مستقبل کے کمپیوٹنگ انفرا اسٹرکچرکوچلانے کے لیے ضروری صاف توانائی فراہم کرسکتا ہے۔ یہ ہندوستان کے اے آئی مینوفیکچرنگ ایکو سسٹم کی بنیاد بن سکتا ہے اورمستقبل کی اے آئی معیشت کے لیے بنیادی ڈھانچے کی حیثیت اختیارکرسکتا ہے۔
ہندوستان نے اپنی صلاحیت پر اعتماد کرنا سیکھ لیا: گوتم اڈانی
گوتم اڈانی نے کہا کہ ماضی میں ہندوستان کے انفرا اسٹرکچسے متعلق عزائم محدود وسائل، محدود صلاحیت اورمحدود اعتماد کی وجہ سے محدود رہے۔ تاہم آج ہندوستان کے پاس وسائل بھی ہیں اوراس نے اپنی صلاحیت بھی ثابت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ہندوستان نے اپنی صلاحیت پراعتماد کرنا سیکھ لیا ہے اوریہی چیزبالآخرکسی ملک کے مستقبل کو تبدیل کرتی ہے۔ اڈانی نے کہا کہ ہندوستان میں سڑکوں، بندرگاہوں اورہوائی اڈوں کا بنیادی ڈھانچہ بے مثال رفتارسے ترقی کررہا ہے۔ رینیوایبل انرجی کی صلاحیت میں بھی ہندوستان دنیا کے دیگرممالک کے مقابلے میں تیزی سے اضافہ کررہا ہے، جبکہ ڈیجیٹل انفرا اسٹرکچرکروڑوں لوگوں تک پہنچ چکا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



