پروفیسر ڈاکٹر رینا پاٹھک۔
تحریر: پروفیسر ڈاکٹر رینا پاٹھک
اتر پردیش کی ترقی کی کہانی اکثر بڑے شہروں جیسے لکھنؤ، کانپور، نوئیڈا، وارانسی اور گورکھپور کے گرد ہی گھومتی رہی ہے۔ لیکن اس بار کہانی بدل گئی ہے۔ پہلی بار ترقی کا پہیا اُن اضلاع کی طرف مڑا ہے جنہیں دہائیوں تک صرف “پسماندہ” کہہ کر نظر انداز کیا جاتا رہا۔
جس ضلع ہردوئی میں گنگا ایکسپریس وے کا افتتاح ہوا، وہ بھی ایسا ہی ایک پسماندہ علاقہ ہے۔ لکھنؤ سے تقریباً 100 کلومیٹر دور اور لکھنؤ سے دہلی کی طرف جانے والے راستے کا ایک سست شہر۔ دارالحکومت کے قریب ہونے کے بعد بھی یہ شہر آزادی کے بعد سے یہ شہر پسماندگی کی مثال ہے۔ “پچھڑا ضلع” کہلانا صرف ایک سرکاری ٹیگ نہیں بلکہ ہر دن محسوس کی جانے والی جدوجہد ہے۔ تھوڑی سی دوری طے کرنے میں گھنٹوں کی دقت، تاجروں کا سامان وقت پر نہ پہنچ پانا، نوجوانوں کا تعلیم اور روزگار کے لیے بڑے شہروں کا رخ کرنا، اور سرمایہ کاروں کا یہاں آنے سے ہچکچانا، یہ ساری وجہوں سے ترقی کا پہیا تھمتا گیا۔
ہردوئی اکیلا نہیں ہے۔ ہاپوڑ، بلند شہر، امروہہ، سنبھل، بدایوں، شاہجہاں پور اور اناؤ جیسے اضلاع بھی بڑے شہروں کے قریب ہونے کے باوجود کمزور رابطہ کاری کے باعث ترقی کی مرکزی دھارا سے کٹے رہے۔ اب تبدیلی کی ایک نئی لکیر ان کے قریب سے گزرنے والی ہے—اور اس لکیر کا نام ہے گنگا ایکسپریس وے۔
594 کلومیٹر طویل یہ منصوبہ صرف ایک سڑک نہیں بلکہ ایک انقلابی قدم ہے جو ان علاقوں کی تقدیر بدل سکتا ہے۔ جب کوئی ایکسپریس وے کسی علاقے سے گزرتا ہے تو وہ صرف سڑک نہیں لاتا، وہ بھروسہ لاتا ہے، سرمایہ کاری کے مواقع لاتا ہے، روزگار لاتا ہے اور سب سے بڑی بات لوگوں کے اندر کچھ کر گزرنے کا حوصلہ جگاتا ہے۔
ایکسپریس وے کیوں ہوتا ہے گیم چینجر؟
کسی بھی ملک میں ایکسپریس وے اسی وقت بنتے ہیں جب حکومت یہ عزم کر لے کہ ترقی کا فائدہ ہر علاقے تک پہنچے۔ یہ مستقبل کی سرمایہ کاری کا خاکہ ہوتے ہیں اور اس بات کی ضمانت دیتے ہیں کہ جن علاقوں سے گزریں گے وہاں ترقی کی رفتار تیز ہوگی۔ گنگا ایکسپریس وے میں 437 انڈر پاس، 21 فلائی اوور، 76 پل، 20 سے زیادہ ای وی چارجنگ اسٹیشن، 24 گھنٹے سی سی ٹی وی نگرانی، ٹراما سینٹرز اور ٹرک ڈرائیوروں کے لیے جدید سہولیات شامل ہیں۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ منصوبہ صرف ٹریفک کے لیے نہیں بلکہ معیشت کو رفتار دینے کے لیے بنایا گیا ہے۔
ایکسپریس وے: ترقی کی نئی محور
یہ ایکسپریس وے میرٹھ سے لے کر پریاگ راج تک 12 اضلاع کو جوڑتا ہے، جن میں میرٹھ، ہاپوڑ، بلند شہر، امروہہ، سنبھل، بدایوں، شاہجہاں پور، ہردوئی، اناؤ، رائے بریلی، پرتاپ گڑھ اور پریاگ راج شامل ہیں۔ اسے اڈانی گروپ نے صرف 3 سال 3 ماہ میں مکمل کیا، جو اسے ملک کا سب سے بڑا بلڈ-آپریٹ-ٹرانسفر (BOT) پروجیکٹ ہے۔
6 لین (مستقبل میں 8 لین تک قابلِ توسیع) یہ ایکسپریس وے نہ صرف فاصلہ کم کرے گا بلکہ سفر کو زیادہ آرام دہ بھی بنائے گا۔ مثال کے طور پر میرٹھ سے پریاگ راج کا سفر جو پہلے 11 گھنٹے لیتا تھا، اب صرف 6 گھنٹے میں طے ہو سکے گا—یعنی 5 گھنٹے کی بچت۔ یہ منصوبہ تقریباً 30 فیصد ایندھن کی بچت بھی کرے گا، جس کا براہِ راست اثر خاندانوں کی آمدنی، تاجروں کی لاگت اور صنعتوں کی پیداوار پر پڑے گا۔
ان ضلعوں کے لیے کیا بدلے گا؟
ویسے تو بہت کچھ بدلے گا لیکن سب سے پہلے اس کا اثر نوکری اور روزگاری پر پڑے گا۔ ایکسپریس وے کے ساتھ 11 صنعتی کوریڈور تیار کیے جا رہے ہیں، جو ان علاقوں میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کریں گے۔ پچھڑے کہلانے والے ضلعوں میں پہلی بار بڑے پیمانے پر صنعت لگے گی، ایسی صنعت جن کے لیے کبھی سرمایہ کار آنے کو تیار نہیں تھا۔ دوسرا بڑا بدلاؤ ہوگا زرعی شعبہ میں۔ مغربی یوپی کی گندم، آلو، گنا اور وسطی یوپی کا دھان اور فوڈ پروسیسنگ صنعت اب براہِ راست بڑی منڈیوں سے جڑ سکے گی، جس سے کسانوں کو بہتر قیمت ملے گی۔ سیاحت کے شعبے میں بھی تیسری سب سے بڑی تبدیلی آئے گی۔ گڑھ مکتیشور، کلکی دھام، بیلا دیوی سے لے کر پریاگ راج کے تریوینی سنگم تک، سات بڑے مذہبی و روحانی مقامات اب پہلے سے کہیں زیادہ آسان سفر کا حصہ بن جائیں گے۔ اس سے چھوٹے دکانداروں، ہوٹلوں، ٹرانسپورٹ اور مقامی معیشت کو بڑی راحت ملے گی۔
یہ صرف سڑک نہیں، وقار ہے
ترقی کی راہ میں پسماندہ شہروں کے باشندے اکثر اپنے شہر کا تعارف قریبی بڑے شہر کے ساتھ جوڑ کر ہی دے پاتے ہیں، مگر ’پاس ہونے‘ اور ’جڑے ہونے‘ میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ پہلی بار یہ پسماندہ شہر واقعی ایکسپریس وے کے ذریعے ترقی اور رفتار سے ’جڑ‘ رہے ہیں۔ ترقی ہمیشہ سڑک کے ساتھ آتی ہے۔ جہاں سڑک جاتی ہے، وہاں بازار جاتا ہے، جہاں بازار جاتا ہے وہاں سرمایہ کاری جاتی ہے، اور جہاں سرمایہ کاری جاتی ہے وہاں بہتر معیارِ زندگی کی امید جگتی ہے۔
گنگا ایکسپریس وے صرف ایک انفراسٹرکچر پروجیکٹ نہیں، بلکہ ان اضلاع کی نئی زندگی ہے جنہیں دہائیوں تک کسی نے سنجیدگی سے نہیں لیا۔ اگر اتر پردیش بھارت کا دل ہے، تو یہ ایکسپریس وے اس کی دھڑکن کو مزید طاقت دینے والا راستہ ہے۔ ہردوئی سے لے کر سنبھل اور امروہہ سے پرتاپ گڑھ تک—اب کوئی ضلع “پسماندہ” نہیں رہے گا۔ یہ ایکسپریس وے صرف ترقی ہی نہیں، برابر مواقع کا ہائی اسپیڈ ٹریک ہے، اور یہی اسے حقیقی معنوں میں تاریخی بناتا ہے۔
(رائٹر پی جی کالج کی پرنسپل ہیں)
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
