وزیر اعظم نریندر مودی نے لوک سبھا میں ’’آپریشن سندور‘‘ پر بحث کے دوران ’’آپریشن مہادیو‘‘ کا ذکر کرتے ہوئے حزبِ اختلاف پر شدید تنقید کی۔ انھوں نے کہا کہ پہلگام حملے میں ملوث دہشت گردوں کو ہمارے سیکورٹی فورسز نے ان کے انجام تک پہنچا دیا ہے۔ وہیں سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو کے ذریعے آپریشن مہادیو کے وقت پر سوال کے جواب میں پی ایم مودی نے کہا کہ ’’پہلگام کے حملہ آوروں کو کل ’آپریشن مہادیو‘ کے تحت ختم کر دیا گیا۔ لیکن یہاں کچھ لوگ ہنس کر پوچھ رہے ہیں کہ یہ کارروائی اسی دن کیوں ہوئی؟ کیا اس کے لیے ساون کے مہینے کا سوموار منتخب کیا جاتا؟ ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے؟ یہ مایوسی کی انتہا ہے۔‘‘
پی ایم مودی نے مزید کہا کہ ’’کئی ہفتوں سے کہا جا رہا تھا کہ ’آپریشن سندور‘ تو ہوا، مگر پہلگام کے دہشت گردوں کا کیا؟ اب جب کہ ان کا بھی صفایا کر دیا گیا، تو سوال کیا جا رہا ہے کہ کل ہی کیوں؟‘‘دریں اثنا پی ایم مودی نے دفاعی شعبے میں حکومت کی کامیابیاں گنواتے ہوئے کہا کہ ’’کانگریس کے دور حکومت میں نہ فوج کی خود کفالت پر توجہ دی گئی، نہ ہی جدید سازوسامان فراہم کیا گیا۔ چھوٹے ہتھیاروں کے لیے بھی غیر ملکی انحصار تھا۔ بوفورس سے لے کر ہیلی کاپٹر تک ہر دفاعی معاہدے میں گھپلا جڑا ہوا تھا۔ اگر پچھلی حکومتوں کی پالیسیوں پر عمل جاری رہتا تو بھارت آج آپریشن سندور کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔ لیکن آج ملک کی فوج کو ’میک اِن انڈیا‘ ہتھیار مل رہے ہیں اور وہ فیصلہ کن کارروائیاں انجام دے رہی ہے۔‘‘
قومی سلامتی پر سیاست نہ کریں: پی ایم مودی
وزیر اعظم مودی نے قومی سلامتی کو سیاست سے الگ رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہمیں سیاست کا حق ہے، اختلاف بھی کر سکتے ہیں، لیکن قومی سلامتی جیسے نازک موضوع پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔ ملک نے ایک دہائی پہلے خود انحصاری اور مضبوطی کا عزم کیا تھا اور ہم اس راہ پر پوری طاقت سے آگے بڑھ رہے ہیں۔‘‘ انھوں نے اس دوران تینوں افواج کو سراہتے ہوئے کہا کہ چیف آف ڈیفنس اسٹاف کی تقرری اور فوجی ڈھانچے میں اصلاحات آزادی کے بعد پہلی بار اتنی قوت سے عمل میں آئیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

