Urdu Conclave 2026

India the Tower of World Peace: دھنتیرس کے چراغوں سے نظام الدین کی روح تک: اندریش کمار نے دکھائی راہ — ’’بھارت، عالمی امن کا مینار‘‘

حضرت نظام الدین اولیاءؒ کی درگاہ ایک بار پھر دھنتیرس کے مقدس موقع پر روحانیت، انسانیت اور قومی یکجہتی کے پیغام سے جگمگا اٹھی۔ شام چراغوں، رنگ برنگی روشنیوں اور صوفی قوالیوں کی مدھ بھری آوازوں سے معمور تھی، جو ایک روحانی اور پاکیزہ فضا پیدا کر رہی تھی۔ مسلم راشٹریہ منچ (ایم آر ایم) کے زیر اہتمام سالانہ جشنِ چراغ بھارت کی گنگا جمنی تہذیب، قومی جذبے اور مذہبی ہم آہنگی کی شاندار مثال بن کر ابھرا۔

نئی دہلی: دہلی کی تاریخی اور روحانی پہچان حضرت نظام الدین اولیاءؒ کی درگاہ ایک بار پھر دھنتیرس کے مقدس موقع پر روحانیت، انسانیت اور قومی یکجہتی کے پیغام سے جگمگا اٹھی۔ شام چراغوں، رنگ برنگی روشنیوں اور صوفی قوالیوں کی مدھ بھری آوازوں سے معمور تھی، جو ایک روحانی اور پاکیزہ فضا پیدا کر رہی تھی۔ مسلم راشٹریہ منچ (ایم آر ایم) کے زیر اہتمام سالانہ جشنِ چراغ بھارت کی گنگا جمنی تہذیب، قومی جذبے اور مذہبی ہم آہنگی کی شاندار مثال بن کر ابھرا۔

بھارتی شناخت کا نچوڑ: ایک روح، کئی روایتیں

تقریب نے یہ پیغام پھر سے واضح کیا کہ بھارت کے تہوار اور عبادت کے طریقے چاہے مذہب کوئی بھی ہو آخرکار محبت، امن اور بھائی چارے کا ہی درس دیتے ہیں۔ درگاہ کی پاکیزہ فضا میں ملک کے کونے کونے سے آئے عقیدت مندوں نے ایک ساتھ دعا کی، گویا ہندوستانیت کی روح کسی ایک مذہب میں نہیں بلکہ تمام مذاہب کے احترام اور باہمی بقائے باہم میں ہے۔

اندریش کمار کی قومی اپیل

ایم آرایم کے سرپرست اور رہنما شری اندریش کمار نے درگاہ پر چادر پیش کی اور ملک و دنیا کے امن و خوشحالی کے لیے دعا کی۔ اپنے خطاب میں انہوں نے ملک کے سامنے تین اہم چیلنجوں کی نشاندہی کی: ’’آج سب سے بڑی ضرورت ہے کہ  تعلیم، ترقی اور تہذیب کو اپنا کربھارت کو منشیات سے آزاد، فساد سے آزاد اور ماحول دوست ملک بنایا جائے۔‘‘

عالمی انتشار کے درمیان بھارت کا امن ماڈل

انہوں نے اسرائیل-فلسطین، یوکرین-روس، پاکستان-افغانستان، سوڈان اور یمن جیسے علاقوں میں جاری جنگ و تشدد پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’’دنیا نفرت اور تصادم کی آگ میں جل رہی ہے، جبکہ بھارت کی قدیم روایت ہمیشہ امن، ہمدردی، عدم تشدد اور محبت کی رہی ہے۔‘‘

’’اہنسا بھارتی تہذیب کی روح ہے‘‘

انہوں نے کہا ’’یہ بدھ، سوامی وویکانند، رام، گرو نانک اور گاندھی جی کی سرزمین ہے۔ بھارت نے کبھی تشدد کا راستہ نہیں چنا بلکہ ہمیشہ عدم تشدد اور بقائے باہم کا راستہ اپنایا۔ یہی ہندوستانیت کی روح ہے — جو پوری دنیا کو رہنمائی دے سکتی ہے۔‘‘

درگاہ میں گونجتی صوفی قوالیاں، امن کی دعائیں

درگاہ کی فضا قوالیوں کی وجد انگیز دھنوں اور اجتماعی دعاوں سے گونج اٹھی۔ زائرین نے ہاتھ اٹھا کر دعا کی: ’’اے پروردگار، اس ملک میں امن قائم رکھ۔‘‘ افسر نظامی اور سلمی نظامی نے کہا کہ ’’حضرت نظام الدین اولیاءؒ کی درگاہ ہمیشہ محبت، انسانیت اور اتحاد کی علامت رہی ہے اور یہاں سے نکلنے والا ہر پیغام سماج میں مثبت تبدیلی لاتا ہے۔‘‘

صوفیت اور قوم پرستی: اتحاد کی مضبوط راہ

انہوں نے کہا ’’یہ پروگرام ثابت کرتا ہے کہ صوفی روایت اور قوم پرستی ساتھ ساتھ چل سکتی ہیں۔ یہی بھارت کی اصل شناخت ہے جہاں مذہب، ثقافت اور قوم پرستی ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں، تضاد نہیں۔‘‘

ڈاکٹر شاہد اختر: تعلیم، تہذیب اور ترقی ہی اصل جواب ہیں

 اسی جذبے کو آگے بڑھاتے ہوئے قومی کمیشن برائے اقلیتی تعلیمی ادارے (NCMEI) کے قائم مقام چیئرمین ڈاکٹر شاہد اختر نے کہا کہ اتحاد، تعلیم اور سماجی بیداری ہی ترقی کے ستون ہیں۔ڈاکٹر اختر نے کہا ’’دنیا کو آج سب سے زیادہ ضرورت ہے تعلیم، تہذیب اور ترقی کی۔ جب سماج تعلیم یافتہ ہوگا، مکالمہ کرے گا اور ایک دوسرے کا احترام کرے گا، تو نہ جنگ ہوگی نہ نفرت۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’بھارت کی اصل طاقت اس کی تنوع میں ہے اور مختلف مذاہب، زبانوں اور ثقافتوں کی یکجہتی بھارتی تہذیب کا سب سے بڑا خزانہ ہے جسے ایم آر ایم بین المذاہب مکالمے کے ذریعے مضبوط کر رہا ہے۔‘‘

ڈاکٹر شالنی علی: دلوں کو منور کر کے بھارت کو طاقتور بنائیں

ایم آر ایم کی خواتین ونگ کی نیشنل کنوینر اور معروف سماجی کارکن ڈاکٹر شالنی علی نے کہا، ’’اصل روشنی چراغوں سے نہیں بلکہ دلوں کے اجالے سے آتی ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’درگاہ سے دیا گیا ایم آرایم کا پیغام صرف مذہبی نہیں بلکہ سماجی اور اخلاقی بھی ہے۔ منشیات چھوڑو، نفرت چھوڑو اور ایک مضبوط بھارت کی تعمیر میں آگے بڑھو۔‘‘ انہوں نے خواتین کے کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ’’ایم آر ایم خواتین ونگ ملک بھر میں تعلیم، ماحولیات اور سماجی فلاح کے میدانوں میں سرگرم ہے۔‘‘

شاہد سعید کا دو ٹوک پیغام: بھارت محبت پر چلتا ہے، نفرت پر نہیں

سینئر صحافی اور ایم آرایم کے نیشنل کنوینر شاہد سعید نے کہا کہ ’’جب سیاست اور میڈیا کے کچھ حصے نفرت پھیلاتے ہیں، ایسے مواقع سماج کو صحیح سمت دکھاتے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا ’’درگاہ سے اٹھنے والا یہ امن کا پیغام یاد دلاتا ہے کہ بھارت نفرت پر نہیں بلکہ محبت پر چلتا ہے۔ جو لوگ بھارت کو بانٹنا چاہتے ہیں، وہ اس کی روح سے ناواقف ہیں۔ بھارت ہمیشہ ہندو-مسلم اتحاد کی علامت رہا ہے اور رہے گا۔‘‘

تمام برادریوں کی شرکت: قومی یکجہتی کے لیے اجتماعی دعا

تقریب میں ایم آر ایم کے قومی کنوینرز محمد افضل، ایڈووکیٹ طاہر رحیم، حافظ صابرین، عمران چودھری، ڈاکٹر سفینہ، شاکرعلی، ٹھاکر راجا رئیس، کرنل طاہر، گوہر آصف سمیت مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی۔ سب نے ملک کی امن و وحدت کے لیے دعا کی اور بھارت کی صوفی روایت کو سلام پیش کیا۔ پروگرام کا اختتام دلکش قوالیوں اور چراغوں کی روشنی میں ہوا، جو محبت، بھائی چارے اور ہم آہنگی کا پیغام دور دور تک پھیلا گئی۔

بھارت: ایک خیال، ایک تہذیب، عالمی امن کا رہنما

اپنے اختتامی خطاب میں اندریش کمار نے کہا ’’بھارت صرف ایک ملک نہیں بلکہ ایک نظریہ اور ایک تہذیب ہے، جو دنیا کو عدم تشدد، محبت اور باہمی احترام کا راستہ دکھاتی ہے۔ بھارت کا آئین ہر شہری کو مساوات، آزادی اور عزت دیتا ہے۔ اگر دنیا بھارت کے ماڈل کو اپنائے، تو جنگ اور نفرت کی جگہ مکالمہ اور ترقی لے سکتی ہے۔‘‘

قومی تعمیر کا اصول: بھارت پہلے، انسانیت سب سے اعلیٰ

انہوں نے مزید کہا کہ ’’مسلم راشٹریہ منچ کا مشن صرف بین المذاہب مکالمہ نہیں بلکہ قومی تعمیر ہے جہاں ہر شہری ’بھارت پہلے، انسانیت سب سے اعلیٰ‘ کے اصول پر متحد ہو۔‘‘ تقریب کا اختتام اجتماعی دعا پر ہوا، جس میں ملک کی سلامتی، ترقی اور اتحاد کی دعا مانگی گئی۔ دھنتیرس کی اس مقدس شام پر مسلم راشٹریہ منچ نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ بھارتی مسلمانوں کی شناخت تعلیم، تہذیب اور ترقی میں ہے شدت پسندی میں نہیں۔ درگاہ سے اٹھنے والی امن و محبت کی یہ صدا آج پورے ملک میں گونج رہی ہے ’’دنیا کو امن کا پیغام دینے والا بھارت ہے اور رہے گا۔‘‘

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔