صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے چار لوگوں کو راجیہ سبھا کے لیے نامزد کیا ہے۔ ان میں سرکاری وکیل اجول دیو راؤ نکم، کیرالہ کے سینئر سماجی کارکن اور ماہر تعلیم سی سدانندن ماسٹر، ہندوستان کے سابق خارجہ سکریٹری ہرش وردھن شرنگلا اور نامور تاریخ دان اور ماہر تعلیم میناکشی جین کے نام شامل ہیں۔ یہ نامزدگیاں پہلے سے نامزد ارکان کی ریٹائرمنٹ کے باعث خالی ہونے والی نشستوں کے پیش نظر کی گئی ہیں۔صدر مرمو نے ان لوگوں کو آئین کے آرٹیکل 80 (1) (a) کی شق (3) کے ذریعہ انہیں دیئے گئے اختیارات کے تحت راجیہ سبھا کے لئے منتخب کیا ہے۔
پارلیمنٹ کے ایوان بالا میں جانے والے ہرش وردھن شرنگلا سینئر سفارت کار رہے ہیں اور 1984 کی انڈین فارن سروس (IFS) کے افسر ہیں۔اپنے 35 سالہ طویل کیریئر میں ہرش وردھن نے دارالحکومت نئی دہلی سمیت بیرون ملک کئی اہم عہدوں پر کام کیا ہے۔وہ امریکہ (2019) میں ہندوستان کے سفیر تھے۔ اس سے قبل وہ بنگلہ دیش میں ہندوستان کے ہائی کمشنر اور تھائی لینڈ میں ہندوستان کے سفیر کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے فرانس (یونیسکو) میں بھی کام کیا ہے۔ امریکہ (اقوام متحدہ، نیویارک)؛ ویتنام (ہنوئی اور ہو چی منہ سٹی)؛ اسرائیل اور جنوبی افریقہ (ڈربن) میں بھی کام کرچکے ہیں۔ ہرش وردھن نے وزارت خارجہ میں جوائنٹ سکریٹری (ڈائریکٹر جنرل) کے طور پر کام کیا، جہاں ان کے پاس بنگلہ دیش، سری لنکا، میانمار اور مالدیپ کی ذمہ داری تھی۔
نکم نے قصاب سمیت کئی اہم مقدمات لڑے ہیں
ملک کے مشہور وکیل اجول نکم بھی راجیہ سبھا کے ذریعے رکن پارلیمنٹ بننے والے ہیں۔ وہ دہشت گرد اجمل قصاب کے خلاف مقدمہ لڑنے کے لیے جانے جاتے ہیں۔ انہوں نے گزشتہ سال بھارتیہ جنتا پارٹی کے ٹکٹ پر لوک سبھا کا الیکشن لڑا تھا لیکن انتہائی سخت مقابلے میں انہیں ممبئی نارتھ سینٹرل سیٹ پر کانگریس امیدوار ورشا گائیکواڑ کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ایک سرکاری وکیل کے طور پر، نکم نے 26/11 کے ممبئی دہشت گردانہ حملوں کے دوران زندہ پکڑے گئے واحد دہشت گرد اجمل قصاب کی موت کی سزا کے لیے کامیابی کے ساتھ پیروی کی۔ یہ مقدمہ لڑنے کے بعد، انہیں 2009 میں Z+ سیکورٹی دی گئی۔ 2016 میں نکم کو پدم شری سے نوازا گیا۔ یہ ملک کا چوتھا سب سے بڑا سول ایوارڈ ہے۔ یہی نہیں، ان کی سوانح حیات پر فلم ’آدیش – پاور آف لاء‘ بھی بنائی گئی۔
میناکشی جین تاریخ کی معروف پروفیسر ہیں، جب کہ سدانندن ماسٹر طویل عرصے سے تعلیم اور سماجی خدمات سے وابستہ ہیں۔ وہ خود کیرالہ میں سیاسی تشدد کا شکار رہے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک نام اپنے اپنے شعبے میں ایک خاص پہچان رکھتا ہے۔ ان چاروں کو آئین کے آرٹیکل 80 کے تحت نامزد کیا گیا ہے، جس کے تحت صدر اپنے کام اور تجربے کی بنیاد پر کچھ خاص لوگوں کو راجیہ سبھا بھیج سکتے ہیں۔ یہ نامزدگی راجیہ سبھا کی خالی نشستوں کو پُر کرنے کے لیے کی گئی ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

