مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ۔
گجرات کے ماتا اُمیا دھام میں منعقد ایک پروگرام کے دوران مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے ملک کی داخلی سلامتی سے متعلق بڑا بیان دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں گزشتہ دس برسوں کے دوران بھارت نے سکیورٹی کے میدان میں غیر معمولی تبدیلیاں دیکھی ہیں۔
نکسل ازم کے خاتمے کا دعویٰ
امت شاہ نے کہا کہ تقریباً پانچ دہائیوں سے ملک کے لیے بڑا چیلنج بنے نکسل ازم کو اب مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 31 مارچ 2026 تک ملک سے نکسل ازم کا مکمل خاتمہ ہو چکا ہے۔ ان کا یہ بیان سیاسی حلقوں میں کافی اہم مانا جا رہا ہے اور اس پر مختلف سطحوں پر بحث بھی شروع ہو گئی ہے۔
نکسل ازم پر ’زیرو ٹالرنس‘ پالیسی
اپنے خطاب میں وزیر داخلہ نے کہا کہ مودی حکومت نے صرف اقتصادی میدان میں ہی نہیں بلکہ قومی سلامتی کے شعبے میں بھی بڑے اور فیصلہ کن اقدامات کیے ہیں۔ ان کے مطابق، دہشت گردی اور نکسل ازم جیسی سنگین مشکلات کے خلاف حکومت نے ’’زیرو ٹالرنس‘‘ کی پالیسی اپنائی، جس کے نتیجے میں آج ملک کی صورتحال پہلے کے مقابلے میں کافی بدل چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دس برسوں میں داخلی سلامتی کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے کئی سطحوں پر اصلاحات کی گئیں، جن کے اثرات اب زمینی سطح پر بھی نظر آنے لگے ہیں۔
دراندازی اور آبادیاتی تبدیلی کا مسئلہ
امت شاہ نے اپنی تقریر میں مغربی بنگال کا ذکر کرتے ہوئے دراندازی اور آبادی میں تبدیلی کے مسئے کو بھی اٹھایا۔ انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں ایک نیا ’’ڈیموگرافک چینج کمیشن‘‘ تشکیل دیا ہے۔ وزیر داخلہ کے مطابق، اس کمیشن کا مقصد غیر معمولی آبادیاتی تبدیلیوں، ان کی وجوہات اور دراندازی سے متعلق قانونی پہلوؤں کا گہرائی سے مطالعہ کرنا ہوگا۔ حکومت کا ماننا ہے کہ اس تحقیق کے ذریعے مستقبل میں زیادہ مؤثر پالیسیاں تیار کی جا سکیں گی۔
سیاسی حلقوں میں بیان پر بحث
امت شاہ کے اس بیان کو سیاسی اعتبار سے بھی کافی اہم سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ اس میں حکومت نے داخلی سلامتی اور استحکام کے میدان میں اپنی کامیابیوں کو نمایاں انداز میں پیش کیا ہے۔ دوسری جانب اپوزیشن جماعتیں وقتاً فوقتاً ایسے دعوؤں پر سوالات اٹھاتی رہی ہیں۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


