کوٹ دوار (اتراکھنڈ ): اتراکھنڈ کے کوٹ دوار سے تعلق رکھنے والے جِم مالک دیپک کمار ان دنوں ملک بھر میں بحث کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ سوشل میڈیا سے لے کر سیاسی ایوانوں تک ان کے اقدام کو انسانیت کی مثال قرار دیا جا رہا ہے۔ حتیٰ کہ لوک سبھا میں قائد حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے بھی ان کی کھل کر تعریف کی۔ تاہم، جس واقعے نے دیپک کمار کو شہرت دلائی، اسی واقعے کے بعد ان کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کر لی گئی، جس نے کئی سوالات کو جنم دے دیا ہے۔ معاملہ 28 جنوری کا ہے، جب کوٹ دوار میں ایک مسلم دکاندار وکیل احمد (70) کی دکان کے نام کو لے کر تنازع پیدا ہوا۔ وکیل احمد نے اپنی دکان کا نام ’بابا اسکول ڈریس‘ رکھا تھا، جس پر بعض ہندو تنظیموں، بالخصوص بجرنگ دل کے کارکنان نے اعتراض ظاہر کیا۔ تنظیم کے افراد دکان کے باہر جمع ہو گئے اور دکاندار پر نام تبدیل کرنے کا دباؤ ڈالنے لگے۔ اسی دوران مقامی جِم مالک دیپک کمار وہاں پہنچے اور دکاندار کے حق میں کھڑے ہو گئے۔
بحث کے دوران جب تنظیم کے کارکنان نے دیپک سے ان کا نام اور مذہب پوچھا تو انہوں نے خود کو ’’محمد دیپک‘‘ بتایا۔ اس موقع پر دیپک نے کہا کہ وہ نہ ہندو ہیں، نہ مسلمان، نہ سکھ اور نہ عیسائی، بلکہ سب سے پہلے ایک انسان ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مرنے کے بعد انہیں خدا اور انسانیت کو جواب دینا ہوگا، کسی خاص مذہب کو نہیں۔ دیپک کے یہ الفاظ اور ان کا انداز سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گیا اور انہیں انسانیت کی علامت کے طور پر پیش کیا جانے لگا۔ واقعے کے وقت دیپک نے بھیڑ سے سوال کیا کہ کیا 30 سال پرانی دکان کا نام بدلوانا درست ہے۔ کچھ دیر کی بحث کے بعد تنظیم کے کارکنان وہاں سے چلے گئے اور صورتحال وقتی طور پر قابو میں آ گئی۔ تاہم، اس واقعے کی ویڈیو جیسے ہی سوشل میڈیا پر آئی، ملک بھر میں ردعمل سامنے آنے لگا۔ کئی سیاسی اور سماجی شخصیات نے دیپک کے اقدام کو سراہا۔
یہ تنازع پہلی بار سامنے نہیں آیا تھا۔ پولیس کے مطابق، تقریباً ڈھائی ماہ قبل بھی دکان کے نام کو لے کر تنازع ہوا تھا، جس کے بعد دکاندار وکیل احمد نے یقین دہانی کرائی تھی کہ دکان کسی اور جگہ منتقل کرنے کے بعد وہ نام تبدیل کر دے گا۔ تقریباً پندرہ دن قبل وکیل احمد نے اپنی دکان پٹیل مارگ پر پہلے مقام سے 30 سے 40 میٹر دور نئی جگہ منتقل کر دی، مگر نام تبدیل نہ ہونے کی وجہ سے ایک بار پھر احتجاج شروع ہو گیا۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد حالات مزید کشیدہ ہو گئے۔ پولیس کے مطابق، 31 جنوری کو گؤ رکشا دل کے ریاستی صدر نریش انیال کی قیادت میں بجرنگ دل کے کارکنان دوبارہ دکان پر پہنچے۔ بڑی تعداد میں لوگ جمع ہو گئے، نعرے بازی ہوئی اور دیپک کمار کی گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا۔ مظاہرین کا الزام تھا کہ دیپک نے سوشل میڈیا پر اشتعال انگیز مواد پوسٹ کیا ہے۔
صورتحال بگڑنے کے بعد کوٹ دوار پولیس نے اتوار کے روز تین الگ الگ مقدمات درج کیے۔ پہلا مقدمہ 30 سے 40 نامعلوم افراد کے خلاف درج کیا گیا، جو احتجاج میں شامل تھے۔ یہ مقدمہ بھارتیہ نیائے سنہیتا کی متعلقہ دفعات کے تحت درج ہوا ہے۔ دوسرا مقدمہ مقامی وکیل احمد کی شکایت پر درج کیا گیا، جنہوں نے مظاہرین پر گالی گلوچ، ذات پات پر مبنی زبان استعمال کرنے اور عوامی امن میں خلل ڈالنے کا الزام لگایا۔ تیسرا مقدمہ کوٹ دوار کے رہائشی کمل پرساد کی شکایت پر درج کیا گیا، جس میں جِم مالک دیپک کمار اور ان کے ساتھیوں پر 28 جنوری کے واقعے کے دوران توہین آمیز زبان استعمال کرنے اور تشدد کی دھمکی دینے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تمام معاملات کی جانچ غیر جانبداری سے کی جا رہی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ دوسری جانب، دیپک کمار کا کہنا ہے کہ انہوں نے صرف انسانیت کے ناطے مداخلت کی تھی اور انہیں امید ہے کہ سچ سامنے آئے گا۔ اس پورے واقعے نے ایک بار پھر مذہب، اظہارِ رائے اور قانون کے درمیان توازن پر بحث کو تیز کر دیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


