Bharat Express DD Free Dish

ED crossing all limits: ای ڈی اپنے تمام حد کو پار کررہی ہے اور وفاقی ڈھانچے کی خلاف ورزی کررہی ہے،سپریم کورٹ نے تمل ناڈو میں ای ڈی کی کارروائی پر لگائی روک

تمل ناڈو حکومت نے ای ڈی کے چھاپوں کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا، اس سے قبل مدراس ہائی کورٹ نے ان چھاپوں کو قانونی قرار دیتے ہوئے ای ڈی کو تحقیقات جاری رکھنے کی اجازت دی تھی۔

سپریم کورٹ نے جمعرات (22 مئی 2025) کو تمل ناڈو کی سرکاری شراب خوردہ فروش کمپنی TASMAC کے خلاف انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ED) کی منی لانڈرنگ تحقیقات کو روک دیا، اور ایجنسی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ای ڈی تمام حدود پار کر رہی ہےاور وفاقی نظامِ حکومت کے تصور کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔ عدالت نے یہ فیصلہ تمل ناڈو حکومت اور TASMAC کی طرف سے دائر درخواستوں پر سماعت کے دوران دیا، جن میں شراب کی دکانوں کے لائسنس دینے میں مبینہ بدعنوانی کی تحقیقات کو چیلنج کیا گیا تھا۔ چیف جسٹس بی آر گوائی اور جسٹس آگسٹین جارج مسیح پر مشتمل بنچ نے ای ڈی کی نمائندگی کرنے والے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایس وی راجو کو خبردار کیا کہ “آپ کی ای ڈی تمام حدود پار کر رہی ہے۔

عدالت نے اپنے مشاہدات میں کہا کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ وفاقی ڈھانچے کی خلاف ورزی کر رہی ہے، اور فی الحال TASMAC کے خلاف ای ڈی کی تحقیقات آگے نہیں بڑھے گی۔ ای ڈی نے مارچ میں TASMAC کے دفاتر پر چھاپوں کے دوران بڑے پیمانے پر تحقیقات شروع کی تھیں، جن میں 6 اور 8 مارچ کو چنئی میں کمپنی کے صدر دفتر سمیت 20 مقامات پر چھاپے مارے گئے تھے۔ ای ڈی نے الزام لگایا تھا کہ شراب کی بوتلوں پر 10 سے 30 روپے فی بوتل اضافی سرچارج عائد کیا گیا، جس میں حکام کی ملی بھگت شامل تھی، اور اس مبینہ بدعنوانی سے تقریباً 1,000 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔

تمل ناڈو حکومت کی نمائندگی کرنے والے سینئر وکلاء کپل سبل اور امت نند تیواری نے عدالت کو بتایا کہ ریاستی حکومت نے خود 2014 سے 2021 کے درمیان شراب کی دکانوں کے لائسنس سے متعلق 41 ایف آئی آر درج کی تھیں، اور اب ای ڈی اچانک تحقیقات میں شامل ہو کر TASMAC پر چھاپے مار رہی ہے۔ دوسری جانب، ای ڈی کے وکیل نے کہا کہ اس کیس میں 1,000 کروڑ روپے سے زائد کی بدعنوانی شامل ہے اور ای ڈی نے اس معاملے میں کوئی حد پار نہیں کی ہے۔ تاہم، عدالت نے ای ڈی کے اقدامات کو وفاقی اصولوں کے منافی قرار دیا اور تحقیقات کو روکنے کا حکم دیا۔

تمل ناڈو حکومت نے ای ڈی کے چھاپوں کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا، اس سے قبل مدراس ہائی کورٹ نے ان چھاپوں کو قانونی قرار دیتے ہوئے ای ڈی کو تحقیقات جاری رکھنے کی اجازت دی تھی۔ ڈی ایم کے کے سینئر رہنما آر ایس بھارتی نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ بی جے پی کی ان کوششوں کے لیے ایک بڑا جھٹکا ہے جن کے ذریعے وہ تمل ناڈو کی ڈی ایم کے حکومت کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ انہوں نے ای ڈی کو “بلیک میلنگ تنظیم” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ تمل ناڈو کے عوام کے جذبات کے مطابق ہے۔ عدالت اس معاملے کی اگلی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد کرے گی۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔