بہار میں ووٹر لسٹ کی خصوصی نظر ثانی یعنی ایس آئی آر کے خلاف دہلی اور پٹنہ دونوں جگہ اپوزیشن کی جانب سے زبردست احتجاج ومظاہرہ کیا جارہا ہے۔آج بہار اسمبلی میں اس موضوع پر بحث بھی ہوئی جس دوران حکومت اور اپوزیشن کے لیڈران کے مابین زبردست تکرار دیکھنے کو ملی ۔ اسمبلی میں اس بحث پر اپنی بات رکھتے ہوئے کانگریس لیجسلیچر پارٹی کے لیڈر شکیل احمد خان نے کہا کہ ووٹر لسٹ نظر ثانی مہم کے نام پر پسماندہ، انتہائی پسماندہ، اقلیتی اور دلتوں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں۔خاص طور پر ان لوگوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے جو ہجرت کرکے دوسرے شہروں میں روزی روٹی کیلئے جاتے ہیں۔ کانگریس لیڈر نے کہا کہ اسمبلی کے مانسون اجلاس میں ہر روز ہم مطالبہ کرتے رہے کہ ایس آئی آر پر بحث ہو لیکن بہار حکومت بھاگتی رہی۔ جے ڈی یو کے ایم ایل اے اور ایم پی ایس آئی آر کی حقیقت جان چکے ہیں، اسی لیے وہ اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔ چونکہ سب کو ووٹ لینا ہے۔
ڈاکٹر شکیل احمد خان نے کہا کہ چاہے وہ سماج کے کسی بھی طبقے سے تعلق رکھتا ہو، ووٹ کا حق اسے آئین نے دیا ہے اور اگر اس ووٹ کے خلاف کوئی کام منصفانہ طریقے سے نہیں ہو رہا تو ہر کسی کو پریشانیاں ہونی چاہیے۔یہ کیسے ممکن ہےکہ جو کام کم از کم ایک سال میں کرنا تھا،اس کو ایک مہینے میں کیا جارہا ہے۔ ہمارے بیشتر ایم ایل اے ساتھی ایسے ہیں جن کے یہاں ہزاروں بلاکوں میں محض رہائشی سرٹیفکیٹ نہیں بن رہے ہیں۔
شکیل احمد نے مزید کہا کہ ایس آئی آر ہونی چاہیے ،اس سے کسی کواعترا ض نہیں ہے لیکن آپ دیکھیں کہ اس کا ٹائم فریم کیا ہے۔میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ الیکشن کمیشن نے اس شگوفے کو کیوں چھوڑا ہے؟ اس کے پیچھے واحد وجہ یہ ہے کہ حکومت کو داخلی سروے میں اپنی شکست کی تصویر پوری طرح واضح نظرآرہی ہے۔ان کی ہار کے ڈر کو دیکھتے ہوئے یہ ایس آئی آر کا فیصلہ ہوا ہے، چونکہ پچھلی بار یہ حکومت صرف 12ہزار ووٹ زیادہ ہونے سے بنی تھی۔ایسے میں پچاس ہزار ووٹ ایس آئی آر کے ذریعے کاٹ لیں گے تو پھر حکومت سازی میں آسانی ہوگی،یہی اصل وجہ ہے کہ آناً فاناً ایس آئی آر کا اعلان کردیا گیا۔یاد رکھیے گا کہ یہ جو ہو رہا ہے ہم اس کو ہونے نہیں دیں گے۔حکومت کو اندازہ ہی نہیں ہے کہ وہ کیا کررہی ہے اور انہیں یہ بھی اندازہ نہیں ہے کہ اپوزیشن کیا کرے گی۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

