امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جی-7 سربراہی اجلاس سے واپسی کے بعد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے فون پر بات کی۔ اس دوران دونوں رہنماؤں نے باہمی تعاون اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا۔ صدر ٹرمپ نے وزیراعظم مودی کو امریکہ آنے کی دعوت بھی دی، لیکن وزیراعظم مودی نے یہ دعوت فی الحال قبول نہیں کی۔
خارجہ سکریٹری وکرم مسری نے دی تفصیلات
خارجہ سکریٹری وکرم مسری نے بتایا کہ بات چیت کے دوران “آپریشن سندور” اور پاکستان سے متعلق حالات پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ وزیراعظم مودی نے صدر ٹرمپ کو بھارت کا دورہ کرنے کی دعوت دی، جس پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ بھارت آنے کے لیے پُرجوش ہیں۔ اسی گفتگو میں صدر ٹرمپ نے بھی وزیراعظم مودی کو امریکہ آنے کی دعوت دی۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت-امریکہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔
“کینیڈا سے واپسی پر امریکہ آئیں” — ٹرمپ کی پیشکش، مودی کا جواب
خارجہ سکریٹری وکرم مسری کے مطابق، صدر ٹرمپ نے وزیراعظم مودی سے پوچھا کہ کیا وہ کینیڈا سے واپسی کے دوران امریکہ آ سکتے ہیں؟ اس پر وزیراعظم مودی نے کہا کہ وہ پہلے سے طے شدہ مصروفیات کے باعث فی الحال امریکہ کا دورہ نہیں کر پائیں گے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی کے دعووں کو بھی مسترد کیا
پی ایم مودی نے پاکستان کے ساتھ جنگ بندی معاہدے کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی کے دعووں کو بھی مسترد کر دیا۔ وکرم مسری نے کہا، ’’پی ایم مودی نے صدر ٹرمپ کو واضح طور پر کہا کہ اس پورے واقعے کے دوران، کسی بھی وقت، کسی بھی سطح پر، ہندوستان-امریکہ تجارتی معاہدے یا ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ثالثی جیسے موضوعات پر کوئی بات نہیں ہوئی، فوجی کارروائی روکنے کی بات ہندوستان اور پاکستان کے درمیان براہ راست ہوئی تھی۔ وہ بھی پاکستان کی درخواست پر کی گئی تھی۔‘‘
خارجہ سکریٹری کے مطابق، 35 منٹ کی بات چیت میں پی ایم مودی نے زور دے کر کہا کہ ہندوستان نے کبھی ثالثی کو قبول نہیں کیا اور نہ ہی وہ اسے قبول کرے گا۔ صدر ٹرمپ نے پی ایم مودی کی طرف سے بتائی گئی باتوں کو تفصیل سے سمجھا اور دہشت گردی کے خلاف ہندوستان کی لڑائی کی حمایت کا اظہار کیا۔
آپریشن سندور پر وضاحت
وکرم مسری نے مزید کہا: “وزیراعظم مودی نے صدر ٹرمپ کو واضح طور پر بتایا کہ آپریشن سندور کے دوران نہ تو بھارت-امریکہ تجارتی معاہدے پر کوئی بات ہوئی اور نہ ہی بھارت و پاکستان کے درمیان امریکہ کی کسی قسم کی ثالثی پر کوئی گفتگو ہوئی۔ فوجی کارروائی کو روکنے سے متعلق جو بات چیت ہوئی، وہ صرف بھارت اور پاکستان کی افواج کے درمیان موجود پہلے سے طے شدہ رابطہ چینل کے ذریعے ہوئی، اور یہ بات چیت پاکستان کی جانب سے شروع کی گئی تھی۔”
بھارت ایکسپرس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

