Bharat Express DD Free Dish

Digvijay Singh remarks on Bangladesh violence: ’’بنگلہ دیش میں اقلیتوں پر حملے، بھارت میں اقلیتوں کے خلاف ہونے والی کارروائیوں کا ردِعمل ‘‘ — دگ وجے سنگھ کا بڑا بیان

کانگریس کے رکنِ پارلیمنٹ دگ وجے سنگھ نے بنگلہ دیش میں جاری تشدد کو براہِ راست بھارت کی اندرونی صورتحال سے جوڑتے ہوئے اسے ’ری ایکشن‘ یعنی ردِعمل قرار دیا ہے۔

کانگریس لیڈر دگوجے سنگھ۔ (فائل فوٹو)

بنگلہ دیش میں اقلیتوں اور دیگر لوگوں پر ہو رہے حملوں کے معاملے پر بھارت میں سیاسی درجۂ حرارت تیز ہو گیا ہے۔ اس حساس مسئلے پر مدھیہ پردیش کے سابق وزیرِ اعلیٰ اور راجیہ سبھا کے رکن دگ وجے سنگھ نے ایک نہایت چونکا دینے والا بیان دیا ہے۔ کانگریس لیڈر نے بنگلہ دیش میں جاری تشدد کو بھارت میں اقلیتوں کے خلاف ہونے والی کارروائیوں کا ردِعمل قرار دیا ہے۔

بھارت کی صورتحال پربھی سخت تنقید

دگ وجے سنگھ نے بنگلہ دیش کی عبوری حکومت اور وہاں کے شدت پسند عناصر پر بات کرتے ہوئے بھارت کی صورتحال پر بھی نشانہ سادھا۔ انہوں نے کہا،’’بنگلہ دیش میں حکومت کی تبدیلی کے بعد وہ تمام عناصر سرگرم ہو گئے ہیں جو مذہبی جنون پھیلا کر سیاست کرتے ہیں۔ شیخ حسینہ اور شیخ مجیب الرحمٰن ہمیشہ ایسے عناصر کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔‘‘ سابق وزیر اعلیٰ نے کہا،’’جو حالات ہمارے ملک میں ہیں، یہاں مذہبی جنون پھیلانے والی شدت پسند طاقتیں جس طرح اقلیتی برادری کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہیں، اسی کا ردِعمل وہاں (بنگلہ دیش) میں اسی نوعیت کا دیکھنے کو مل رہا ہے۔‘‘انہوں نے مزید کہا، ’’ہم بنگلہ دیش میں اپنے ہندو اور عیسائی بھائیوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے، اس کی مذمت کرتے ہیں۔ وہاں کے سربراہ محمد یونس صاحب، جو خود ایک معزز ماہرِ معاشیات ہیں، انہیں اس معاملے میں سخت کارروائی کرنی چاہیے۔‘‘ انہوں نے بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس سے اپیل کی کہ ہندو اور عیسائی برادری پر ہو رہے حملوں کی سخت مذمت کی جائے اور اس معاملے میں مؤثر کارروائی کی جائے۔

بی جے پی ایم ایل اے کا جواب

دگ وجے سنگھ کے بیان پر بی جے پی کے رکن اسمبلی رامیشور شرما نے جوابی حملہ کیا۔ انہوں نے کہا، ’’دگ وجے سنگھ یہ طے نہیں کر پا رہے ہیں کہ وہ بھارت کے شہری ہیں یا پاکستانی آئی ایس آئی کے ایجنٹ۔ کیا وہ القاعدہ کے ترجمان ہیں؟‘‘

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read