Bharat Express DD Free Dish

Digital citizen-centric governance: بھارت کی ڈیجیٹل شہری محور گورننس کے ذریعے ترقی کی نئی راہیں

آدھار نے 1.3 بلین سے زائد افراد کو منفرد ڈیجیٹل شناخت دی، جو کہ سرکاری فوائد، سبسڈیز، اور مالی شمولیت کے لیے بنیادی ڈھانچہ فراہم کرتا ہے۔ UPI نے 2024 میں 12 بلین سے زائد ماہانہ ٹرانزیکشنز کے ساتھ ڈیجیٹل ادائیگیوں میں انقلاب برپا کیا، جبکہ ڈیجی لاکر نے دستاویزات کو ڈیجیٹل طور پر محفوظ کرنے اور رسائی کو آسان بنایا۔

بھارت نے ڈیجیٹل شہری محور گورننس کے ذریعے ترقی کے نئے سنگ میل طے کیے ہیں، جو کہ ڈیجیٹل انڈیا پروگرام کے تحت ممکن ہوا ہے۔ اگست 2025 تک، بھارت نے ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر (DPI) جیسے کہ آدھار، ڈیجی لاکر، اور یونیفائیڈ پیمنٹس انٹرفیس (UPI) کے ذریعے شہریوں کو سرکاری خدمات تک آسان رسائی فراہم کی ہے۔ آدھار نے 1.3 بلین سے زائد افراد کو منفرد ڈیجیٹل شناخت دی، جو کہ سرکاری فوائد، سبسڈیز، اور مالی شمولیت کے لیے بنیادی ڈھانچہ فراہم کرتا ہے۔ UPI نے 2024 میں 12 بلین سے زائد ماہانہ ٹرانزیکشنز کے ساتھ ڈیجیٹل ادائیگیوں میں انقلاب برپا کیا، جبکہ ڈیجی لاکر نے دستاویزات کو ڈیجیٹل طور پر محفوظ کرنے اور رسائی کو آسان بنایا۔ یہ اقدامات بھارت کی ڈیجیٹل معیشت کو 2026 تک 20 فیصد جی ڈی پی تک لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جو کہ 2014 میں صرف 4-4.5 فیصد تھی۔

شہری محور گورننس کے تحت، بھارت نے خدمات کی فراہمی کو تیز، شفاف، اور جامع بنانے کے لیے متعدد اقدامات اٹھائے ہیں۔ ڈیجیٹل انڈیا پروگرام کے تحت پرادھان منتری گرامین ڈیجیٹل ساکشرتا ابھیان (PMGDISHA) نے دیہی علاقوں میں ڈیجیٹل خواندگی کو فروغ دیا، جس نے 5.96 کروڑ افراد کو تربیت دی اور 4.44 کروڑ کو ڈیجیٹل طور پر تصدیق شدہ بنایا، جو کہ دنیا کا سب سے بڑا ڈیجیٹل خواندگی پروگرام ہے۔ اس کے علاوہ، کامن سروس سینٹرز (CSCs) نے دیہی علاقوں میں 5.31 لاکھ ڈیجیٹل کیوسک کے ذریعے بینکنگ، تعلیم، اور صحت کی خدمات تک رسائی کو ممکن بنایا۔ یومنگ (UMANG) ایپ نے 1,570 سے زائد سرکاری خدمات اور 22,000 بل پیمنٹ سروسز کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کیا، جس سے شہریوں کے لیے سرکاری خدمات تک رسائی آسان ہوئی۔ یہ اقدامات شہریوں کی سہولت اور شمولیت کو بڑھاتے ہیں، خاص طور پر پسماندہ اور دیہی طبقات کے لیے۔

مصنوعی ذہانت (AI) اور دیگر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز بھارت کی ای-گورننس کو مزید موثر اور ذاتی نوعیت کا بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ AI سے چلنے والے چیٹ بوٹس اور ایپلی کیشنز، جیسے کہ مہاراشٹر کے مہا آئی ٹی، ڈیٹا پر مبنی فیصلہ سازی کو فروغ دیتے ہیں، جبکہ پیشن گوئی تجزیات قدرتی آفات کی پیشگی شناخت اور وسائل کی موثر تقسیم میں مدد کرتے ہیں۔ تاہم، AI کے استعمال سے ڈیٹا کی رازداری، ڈیجیٹل خواندگی، اور ڈیجیٹل ڈیوائیڈ جیسے چیلنجز بھی سامنے آئے ہیں۔ بھارت کو 2027 تک AI ماہرین کی تعداد 1.25 ملین تک بڑھانے کی ضرورت ہے، جبکہ ڈیٹا سیکیورٹی اور مقامی ضوابط کی تعمیل کو یقینی بنانا بھی ایک اہم چیلنج ہے۔ اس کے باوجود، AI کی صلاحیت گورننس کو شہریوں کے لیے زیادہ جوابدہ اور جامع بنانے میں اہم ہے۔

بھارت کی ڈیجیٹل گورننس کی کامیابی نے عالمی سطح پر اسے ایک رہنما کے طور پر پیش کیا ہے، لیکن کچھ چیلنجز اب بھی باقی ہیں۔ ڈیجیٹل ڈیوائیڈ، خاص طور پر دیہی علاقوں میں انٹرنیٹ اور آلات تک محدود رسائی، اور تکنیکی خواندگی کی کمی شہری محور گورننس کے مکمل نفاذ میں رکاوٹ ہیں۔ اس کے علاوہ، لسانی تنوع کو ایڈریس کرنے کے لیے BHASHINI جیسے اقدامات اہم ہیں، جو کہ متعدد بھارتی زبانوں میں خدمات فراہم کرتے ہیں۔ بھارت کا ہدف ہے کہ وہ 2027-28 تک 1 ٹریلین ڈالر کی ڈیجیٹل معیشت بن جائے، اور اس کے لیے ڈیٹا سیکیورٹی، ہنر مند افرادی قوت، اور جامع ڈیجیٹل رسائی پر توجہ دینا ضروری ہے۔ یہ ڈیجیٹل انقلاب نہ صرف گورننس کو تبدیل کر رہا ہے بلکہ شہریوں کو بااختیار بناتے ہوئے بھارت کو ایک عالمی ڈیجیٹل لیڈر کے طور پر بھی قائم کر رہا ہے۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read