تحریر:ڈاکٹر سیّد سلیمان اختر
امریکہ میں عالمی معیار کی تحقیقی جامعات، بین شعبہ جاتی تدریسی ماڈل اور تحقیق و جستجو کی ایک متحرک روایت موجود ہے۔ یہ خوبیاں بسا اوقات ایسا تعلیمی ماحول فراہم کرتی ہیں جہاں طلبہ نئے خیالات آزما سکتے ہیں، مختلف نقطۂ نظر سے سیکھ سکتے ہیں اور اپنے تعلیمی راستوں کو نکھار سکتے ہیں۔ امریکی فلبرائٹ۔نہرواسٹوڈنٹ ریسرچر ہرشنی وینکٹ چَلم کے لیے یہ ماحول تعلیمی تحقیق کو گہرائی سے سمجھنے اور یہ جانچنے کا موقع بنا کہ سیکھنے والوں میں حسابی طرزِ فکر کی مہارتیں کس طرح تشکیل پاتی ہیں ۔
ہرشنی کی اس میدان میں دلچسپی ان کے انڈرگریجویٹ دور میں پیدا ہوئی، جب وہ براؤن یونیورسٹی میں کمپیوٹر سائنس کی ٹیچنگ اسسٹنٹ کے طور پر خدمات انجام دے رہی تھیں۔ اس تجربے نے نہ صرف ان کی تعلیمی سمت متعین کی بلکہ ان کے تجسس کو بھی مہمیزکیا۔ وہ کہتی ہیں ’’مجھے پروفیسر کی نگرانی میں اسائنمنٹس تیار کرنے اور ایک بڑے کورس میں اپنا کردار ادا کرنے کا موقع ملا۔‘‘ چونکہ وہ خود پہلے سال کی طالبہ کے طور پر مشکلات کا سامنا کر چکی تھیں، اس لیے دوسروں کی مدد کرنا ان کے لیے خاص طور پر بامعنی تھا۔ وہ کہتی ہیں ’’اس کام نے میرے ذہن میں یہ سوالات چھوڑ دیے کہ طلبہ کس طرح سیکھتے ہیں اور مؤثر تدریسی طریقے اور ٹوکس کس طرح ڈیزائن کیے جائیں ۔ ‘‘
ایک نئے تعلیمی تناظر میں سیکھنا
فلبرائٹ۔نہرو فیلوشپ کے ذریعے ہرشنی نے ہندوستان کے ایک میزبان ادارے میں شمولیت اختیار کی، جہاں انہیں سیکھنےاورتحقیقی ڈیزائن اور بچوں کے ساتھ کام کرنے سے متعلق نئے خیالات سے آشنائی حاصل ہوئی۔ وہ وضاحت کرتی ہیں ’’میں نے امریکہ سے مختلف تناظر میں تحقیق اور تعلیم کے بارے میں سیکھا۔‘‘
اپنے ۲۰۲۵۔۲۰۲۴کے منصوبے کے لیے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (آئی آئی ٹی) بمبئی میں قیام کے دوران ہرشنی نے مختلف شعبوں کے ماہرینِ تعلیم سے تبادلۂ خیال کیا، جس سے انہیں یہ بات بہتر طور پر سمجھ میں آئی کہ تعلیمی طریقہ کار عمر، طبقہ اور ماحول کے لحاظ سے کس طرح مختلف ہوتے ہیں۔
کے منصوبے کے لیے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (آئی آئی ٹی) بمبئی میں قیام کے دوران ہرشنی نے مختلف شعبوں کے ماہرینِ تعلیم سے تبادلۂ خیال کیا، جس سے انہیں یہ بات بہتر طور پر سمجھ میں آئی کہ تعلیمی طریقہ کار عمر، طبقہ اور ماحول کے لحاظ سے کس طرح مختلف ہوتے ہیں۔
ایک فریم ورک جو خاص طور پر نمایاں رہا، وہ جینیٹ ریڈ کاتحقیق میں بچوں کو مرکز میں رکھنے کا اخلاقی فریم ورک تھا، جس نے ہرشنی اور ان کے ساتھیوں کو ’’ اپنی تحقیق میں شامل شرکاء بچوں تک نتائج پہنچانے کے لیے ایک تفاعلی سیشن ڈیزائن کرنے‘‘ کی ترغیب دی۔
اس بین ثقافتی تجربے نے انہیں اس سلسلے میں زیادہ تنقیدی انداز میں سوچنے میں مدد دی کہ تعلیمی طریقوں کو اپنے سیاق و سباق کے مطابق ڈھالنا کیو ں ضروری ہے۔
وہ کہتی ہیں ’’تعلیم اور اس کے ساتھ تعلیمی تحقیق، سیاق و سباق پر منحصر ہوتی ہے، اور جو چیز ایک ماحول میں کارگر ہو، ضروری نہیں کہ دوسرے میں بھی ہو۔‘‘ مثال کے طور پر، ہندوستان میں زیادہ تر طلبہ کئی زبانیں بولتے ہیں۔ وہ وضاحت کرتی ہیں، ’’ہمیں مداخلت کے ڈیزائن اور اپنی تحقیقی تکنیکوں، دونوں میں بولی جانے والی مختلف زبانوں کو مدنظر رکھنا پڑا۔ ‘‘
سیکھنے کے تجربات کی تشکیل
ہرشنی کی تحقیق کا مجموعی مرکز حسابی طرزِ فکر اور یہ سمجھنا تھا کہ نئے پروگرام ساز تجرید سے کیسے سیکھتے ہیں۔ اگرچہ ان کی ابتدائی تجویز ایک موبائل ایپ ڈیزائن کرنے سے متعلق تھی، لیکن تحقیق کی سمت وقت کے ساتھ بدل گئی۔ وہ بتاتی ہیں ’’تحقیق نے اس ابتدائی خیال سے رخ موڑ لیا۔ موبائل ایپ ڈیزائن اور ٹیسٹ کرنے کے بجائے، ہم نے موجودہ صارف ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے ایک ورکشاپ تیار کی، جس میں طلبہ کے لیے ایک تفاعلی پلے گراؤنڈ بنایا یا تاکہ طلبہ سیکھ سکیں اور تجربہ کر سکیں۔‘‘
اس ورکشاپ میں طلبہ نے اپنی زندگیوں اور دلچسپیوں کی عکاسی کرنے والے ابتدائی پروگرامنگ چیلنج آزمائے اور حتمی منصوبے تیار کیے۔ ان کا کام اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ کس طرح قابلِ موافقت تعلیمی ماحول، جو سوچے سمجھے ڈیزائن اور تحقیقی طریقوں سے معاونت یافتہ ہوں، نوجوان سیکھنے والوں کو مسئلہ حل کرنے کی وہ مہارتیں فراہم کر سکتے ہیں جو آج کی ڈیجیٹل دنیا میں ناگزیر ہیں۔
مشترکہ صلاحیتوں کا منظرنامہ
ہرشنی کا تجربہ اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ امریکی جامعات مضبوط تحقیقی ڈھانچہ، بین الشعبہ جاتی تعاون اور طالب علم مرکوز تدریس فراہم کرتی ہیں۔ فل برائٹ–نہرو فیلوشپ جیسے پروگرام امریکی جامعات کے لیے بھی فائدہ مند ہیں، کیونکہ یہ بین الاقوامی محققین کے نقطۂ نظر سے سیکھنے، بین الثقافتی تعاون کو فروغ دینے، اور ایسے مشاہدات حاصل کرنے کے مواقع فراہم کرتے ہیں جو تدریس، تحقیق اور نصاب کی تشکیل میں رہنمائی کر سکتے ہیں۔ یہ دو طرفہ تبادلہ اسٹیم (سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی کی) تعلیم میں عالمی روابط کو مضبوط کرتا ہے اور ایسی اختراعات کی حوصلہ افزائی کرتا ہے جو دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ہوں۔
ہرشنی اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ بامعنی تعلیمی اختراع کہیں سے بھی سامنے آ سکتی ہے۔ وہ کہتی ہیں ’’امید ہے کہ اسٹیم تعلیم کا مستقبل دنیا بھر سے آنے والی اختراعات کو شامل کرے گا۔‘‘ یہ نقطۂ نظر تعلیمی تبادلوں کی ایک بنیادی قدر کو نمایاں کرتا ہےیعنی یہ کہ خیالات سرحدوں کے پار بانٹے جائیں تو زیادہ مضبوط ہو جاتے ہیں۔
آگے کی راہ
ہرشنی کو توقع ہے کہ جیسے جیسے امریکہ اور ہندوستان تعلیم اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کو وسعت دیں گے، تحقیق پر مبنی شراکت داریوں کے نئے امکانات پیدا ہوں گے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ایسی شراکت داریاں ان کے کام کے اثر کو بڑھا سکتی ہیں، تو ان کا جواب سادہ اور واضح تھا: ’’جی ہاں۔‘‘
اسٹیم سیکھنے والوں کی اگلی نسل کے لیے ان کی ترجیحات بھی بالکل واضح ہیں: ’’اسٹیم تعلیم اور مجموعی طور پر تعلیم تک زیادہ رسائی؛ ہر شعبۂ تعلیم سے تعلق رکھنے والوں کے لیے ٹیکنالوجی لٹریسی (ٹیکنالوجی کو سمجھنے اور استعمال کرنے کی صلاحیت)؛ اور تخلیقی صلاحیت اور دریافت کے مواقع میں اضافہ۔‘‘
ہرشنی کا سفر اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ تعلیمی تبادلہ کس طرح فہم کو گہرا کر سکتا ہے، تحقیق کے نئے راستے کھول سکتا ہے اور مختلف ثقافتی تناظرات میں تدریس کی حقیقتوں کو شامل کرتے ہوئے سیکھنے کو بہتر بنانے کے لیے کوشاں اساتذہ کی معاونت کر سکتا ہے۔
بشکریہ اسپَین میگزین، امریکی سفارت خانہ، نئی دہلی
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔





