دہلی پولیس نے ترکمان گیٹ پتھراؤ معاملے میں اتوار کو دو مزید ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق گرفتار افراد کی شناخت فہیم عرف سانو اور شہزاد کے طور پر ہوئی ہے۔ ان گرفتاریوں کے بعد اس معاملے میں حراست میں لیے گئے افراد کی مجموعی تعداد 18 تک پہنچ گئی ہے۔یہ واقعہ اس وقت پیش آیا تھا ،جب دہلی ہائی کورٹ کے حکم پر میونسپل کارپوریشن آف دہلی (ایم سی ڈی) اور پولیس کی ٹیمیں فیض الہی مسجد کے قریب غیر قانونی تجاوزات ہٹانے کے لیے جے سی بی مشینوں کے ساتھ موقع پر پہنچیں۔ اسی دوران تقریباً 25 سے 30 افراد نے پولیس اور ایم سی ڈی اہلکاروں پر پتھراؤ کیا، جس سے حالات کشیدہ ہو گئے۔
VIDEO | Turkman Gate stone-pelting case: Advocate Fizan Ahmad, speaking after the Tis Hazari Court hearing, says, “…They (accused) all have been falsely implicated. The allegations are baseless and irrational… there were around 2,000 people visible on camera, yet eight people… pic.twitter.com/paCvJp0gQ9
— Press Trust of India (@PTI_News) January 9, 2026
پتھراؤ کے واقعے کے بعد دہلی پولیس نے فیض الہی مسجد کے اطراف بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہیتا (بی این ایس ایس) کی دفعہ 163 نافذ کر دی، جس کے تحت علاقے میں اجتماعات پر پابندی عائد کر دی گئی۔ پولیس نے عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے گھروں میں ہی نماز ادا کریں۔پولیس حکام کے مطابق جمعرات کو اس تشدد میں مبینہ طور پر ملوث 30 افراد کی شناخت کر لی گئی تھی۔ یہ شناخت سی سی ٹی وی فوٹیج اور سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز کی مدد سے کی گئی۔ اس کے بعد باقی ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
A joint investigation team from CPI-(ML), AICCTU, AISA, AIPWA, and AILAJ reached Delhi’s Turkman Gate today to inquire into the large-scale arrests following demolitions in the area.
The fact-finding team met with the residents of Turkman Gate and the families affected by this… pic.twitter.com/Q1ROnq8Nks
— CPIML Liberation (@cpimlliberation) January 11, 2026
دہلی پولیس کے ایک بیان کے مطابق 7 جنوری کو ترکمان گیٹ، رام لیلا میدان کے قریب فیض الہی مسجد کے آس پاس تجاوزات کے خلاف انہدامی کارروائی ہائی کورٹ کے حکم پر علی الصبح شروع کی گئی تھی۔ اسی دوران مشتعل ہجوم نے پتھراؤ کیا، جس کے نتیجے میں پانچ پولیس اہلکاروں کو معمولی چوٹیں آئیں۔ سینٹرل ڈسٹرکٹ کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس ندھِن ولسن کے مطابق زخمی اہلکاروں کو قریبی اسپتال میں علاج فراہم کیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ انہدامی کارروائی سے قبل امن برقرار رکھنے کے لیے امن کمیٹی اور مقامی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ کئی تال میل میٹنگز کی گئی تھیں۔ سینٹرل رینج کے جوائنٹ کمشنر آف پولیس مدھر ورما کے مطابق امن و امان برقرار رکھنے کے لیے تمام ممکنہ احتیاطی اور اعتماد سازی کے اقدامات کیے گئے تھے، تاہم چند شرپسند عناصر نے حالات خراب کرنے کی کوشش کی، جسے محدود اور مناسب طاقت کے استعمال سے فوری طور پر قابو میں لے لیا گیا۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


