Bharat Express DD Free Dish

Student Beaten To Death By Minors: یمنا پار میں ایک بار پھر انسانیت لہولہان، ترلوک پوری میں 11ویں جماعت کے طالب علم کا پیٹ پیٹ کر قتل، 6 نابالغ حراست میں

دہلی کے یَمُنا پار علاقے میں جرائم کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ لکشمی نگر کے تہرے قتل اور ویلکم علاقے کے خونی واقعے کے بعد اب ترلوک پوری سے آنے والی خبر نے پورے دارالحکومت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یہاں محض 17 سالہ طالب علم کو اس قدر بے رحمی سے پیٹا گیا کہ اس نے دورانِ علاج دم توڑ دیا۔

دہلی کے یَمُنا پار علاقے میں جرائم کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ لکشمی نگر کے تہرے قتل اور ویلکم علاقے کے خونی واقعے کے بعد اب ترلوک پوری سے آنے والی خبر نے پورے دارالحکومت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یہاں محض 17 سالہ طالب علم کو اس قدر بے رحمی سے پیٹا گیا کہ اس نے دورانِ علاج دم توڑ دیا۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس ہولناک واردات کو انجام دینے والے تمام ملزمان نابالغ ہیں، جس نے سماج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سامنے کئی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ مہلوک طالب علم کی شناخت موہت کے طور پر ہوئی ہے، جو ترلوک پوری کے اندرہ کیمپ کا رہائشی تھا اور 11ویں جماعت میں زیرِ تعلیم تھا۔ موہت کے اہل خانہ کے مطابق وہ ایک عام سا طالب علم تھا، جس کا کسی سنگین جرم سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ مگر محض ایک معمولی تنازع نے اس کی جان لے لی اور اس کے گھر میں ہمیشہ کے لیے سناٹا چھوڑ گیا۔

کیا ہے پورا واقعہ؟
یہ لرزہ خیز واقعہ 5 جنوری کی شام تقریباً ساڑھے سات بجے پیش آیا۔ عینی شاہدین کے مطابق موہت اپنے چند دوستوں کے ساتھ محلے میں موجود تھا، اسی دوران علاقے کے ہی ایک لڑکے سے اس کا پرانا تنازع دوبارہ ابھر آیا۔ پہلے گالی گلوچ ہوئی اور پھر اچانک صورتحال بگڑ گئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے لڑکوں کے ایک گروہ نے موہت کو گھیر لیا اور اس پر لاٹھیوں، لاتوں اور گھونسوں کی بارش کر دی۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ موہت زمین پر گر پڑا، مگر حملہ آوروں کا تشدد یہیں نہیں رکا۔ الزام ہے کہ لڑکوں نے بے ہوش پڑے موہت کو بھی مسلسل مارتے رہے۔ جب ایک اور نوجوان نے بیچ بچاؤ کی کوشش کی تو اسے بھی نہیں بخشا گیا اور اس کے ساتھ بھی مارپیٹ کی گئی۔ یہ سب کچھ سڑک پر سرِعام ہوتا رہا اور لوگ خوف کے مارے مداخلت نہ کر سکے۔

اسپتال میں ٹوٹ گئی زندگی کی ڈور
شدید زخمی حالت میں موہت کو فوری طور پر لال بہادر شاستری اسپتال لے جایا گیا، جہاں اس کی نازک حالت کو دیکھتے ہوئے ڈاکٹروں نے اسے جی ٹی بی اسپتال ریفر کر دیا۔ موہت اس قدر زخمی تھا کہ وہ پولیس کو اپنا بیان تک نہیں دے سکا۔ بالآخر 6 جنوری کی رات تقریباً سوا ایک بجے علاج کے دوران اس کی موت ہو گئی۔ اس المناک خبر کے بعد موہت کے گھر میں کہرام مچ گیا اور والدین کے ساتھ ساتھ اس کی دادی بھی صدمے سے نڈھال ہو گئیں۔

پولیس کارروائی اور قانونی پہلو
مشرقی دہلی کے ڈی سی پی ابھیشیک دھنیا نے بتایا کہ واقعے کے فوراً بعد مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ کرائم ٹیم اور ایف ایس ایل نے موقع واردات سے شواہد اکٹھا کیے ہیں۔ پولیس نے تیزی سے کارروائی کرتے ہوئے اس معاملے میں ملوث تمام چھ نابالغوں کو حراست میں لے لیا ہے۔ ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ قتل کی وجہ پرانی دشمنی تھی، تاہم پولیس پوسٹ مارٹم رپورٹ کا انتظار کر رہی ہے تاکہ موت کی حتمی وجہ واضح ہو سکے۔

سماج میں خوف اور غصہ
اس واقعے کے بعد یمنا پار کے لوگوں میں شدید غصہ اور خوف پایا جاتا ہے۔ مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ نابالغوں میں بڑھتا ہوا جرائم کا رجحان اور معمولی باتوں پر تشدد تشویشناک ہے۔ لوگ پولیس گشت اور امن و امان کی صورتحال پر بھی سوال اٹھا رہے ہیں کہ آخر ایسے گنجان علاقوں میں مجرم اس قدر بے خوف کیسے ہو گئے ہیں۔ میور وہار تھانے میں اس معاملے میں ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔ پولیس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ تحقیقات جاری ہے اور متاثرہ خاندان کو انصاف دلانے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا جائے گا۔ تاہم یہ واقعہ ایک بار پھر یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ معاشرہ اور نظام کس سمت جا رہا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read