نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے مرکزی اطلاعاتی کمیشن (سی آئی سی) کے اس حکم کو مکمل طور پر منسوخ کر دیا ہے، جس میں ہندوستانی فضائیہ کو حقِ اطلاعات (آر ٹی آئی) قانون کے تحت وزیر اعظم نریندر مودی اور سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے غیر ملکی دوروں سے متعلق تفصیلی ریکارڈ عام کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔15 اکتوبر 2026 کو دیے گئے فیصلے میں عدالت نے واضح کیا کہ وزیر اعظم کی سکیورٹی کے انتظامات سے متعلق حساس معلومات ظاہر کرنے سے قومی سلامتی کو سنگین خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
2018 میں دائر کی گئی تھی آر ٹی آئی درخواست
یہ معاملہ ریٹائرڈ کموڈور لوکیش کے بترا کی جانب سے جون 2018 میں دائر کی گئی حقِ اطلاعات کی درخواست سے متعلق ہے۔ انہوں نے اپریل 2013 سے جون 2018 کے درمیان فضائیہ کے طیاروں کے ذریعے وزیر اعظم کے کیے گئے غیر ملکی دوروں کی تفصیلات طلب کی تھیں۔درخواست میں اسپیشل فلائٹ ریٹرنس (ایس ایف آر) کے حصہ اول اور حصہ دوم کی نقول مانگی گئی تھیں۔ ان دستاویزات میں طیاروں کے نام، فضائی عملے کی تفصیلات، اسپیشل پروٹیکشن گروپ (ایس پی جی) کے اہلکاروں اور وزیر اعظم کے ساتھ سفر کرنے والے پورے وفد کی معلومات شامل تھیں۔ہندوستانی فضائیہ کے مرکزی عوامی اطلاعاتی افسر نے سکیورٹی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے یہ معلومات فراہم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ تاہم، مرکزی اطلاعاتی کمیشن نے نام ہٹانے کے بعد دستاویزات جاری کرنے کا حکم دیا تھا۔ فضائیہ نے اس فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔
سکیورٹی اداروں کے جائزے میں مداخلت نہیں کر سکتی عدالت
جسٹس امت مہاجن کی سربراہی والی بنچ نے معاملے کی سماعت کرتے ہوئے 15 اکتوبر کے اپنے حکم میں کہا کہ ہائی کورٹ یا اطلاعاتی کمیشن، سکیورٹی اداروں کے اس جائزے پر اپنی رائے مسلط نہیں کر سکتے کہ کون سی معلومات سکیورٹی کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کی اس دلیل کو بھی مسترد کر دیا کہ معاملہ عوامی پیسے کے خرچ سے متعلق ہے۔بنچ نے کہا کہ صرف اس وجہ سے کہ غیر ملکی دوروں پر عوامی فنڈ خرچ ہوتا ہے، سکیورٹی انتظامات اور وزیر اعظم کی جسمانی حفاظت کو خطرے میں نہیں ڈالا جا سکتا۔
دفاع اور سکیورٹی سے متعلق معلومات کو تحفظ
اس فیصلے سے دفاعی اور سکیورٹی اداروں سے متعلق حساس معلومات کو حقِ اطلاعات قانون کے دائرے سے مستثنیٰ رکھنے کے معاملے میں عدالت کے موقف کو مزید تقویت ملی ہے۔ عدالت کے مطابق، عوامی فنڈز کے استعمال کی بنیاد پر ایسی معلومات ظاہر کرنے کا مطالبہ نہیں کیا جا سکتا، جن سے قومی سلامتی یا اہم شخصیات کی حفاظت متاثر ہونے کا خدشہ ہو۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

