ضبط شدہ منشیات کی فائل فوٹو۔
سورت پولیس نے سی آر پی ایف کے ایک کانسٹیبل کو 22 کلو سے زیادہ گانجے کے ساتھ گرفتار کیا ہے، جو مبینہ طور پر اوڈیشہ سے اسمگل کیا گیا تھا۔ ملزم سیمانچل چیتن ناہک کو، جو اوڈیشہ کے گنجم ضلع کا رہنے والا ہے اور اس وقت دہلی کے سی آر پی ایف یونٹ میں تعینات ہے، ورچھا پولیس نے ایک خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا ہے۔
سورت سٹی کے ڈی سی پی آلوک کمار نے کہا کہ ’’پولیس نے ناہک کو روکا اور اس کی ٹرالی اور ہینڈ بیگ میں چھپایا ہوا گانجا دریافت کیا۔ کل 22.258 کلو گرام ممنوعہ مادہ، ایک موبائل فون اور 2.27 لاکھ روپے مالیت کا دیگر قیمتی سامان ضبط کیا گیا۔‘‘ پولیس نے ایک شناختی کارڈ بھی برآمد کیا جس میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ ناہک 2015 سے سی آر پی ایف میں خدمات انجام دے رہا ہے۔ اس کی پچھلی پوسٹنگ پلوامہ، کشمیر میں ہوئی تھی۔ اسے حال ہی میں روہنی جیل، دہلی میں پوسٹ کیا گیا ہے۔
مبینہ طور پر اسے آسام منتقل کر دیا گیا تھا لیکن وہ ڈیوٹی پر رپورٹ کرنے میں ناکام رہا۔ ہوم ڈپارٹمنٹ فی الحال اس کے سروس ریکارڈ کی تفصیلات کی تصدیق کر رہا ہے۔ پوچھ گچھ کے دوران، ناہک نے اڈیشہ میں 8000 روپے فی کلو کے حساب سے گانجا خریدنے اور اسے ایک ایسے گاہک تک پہنچانے کے لیے سورت کا سفر کرنے کا اعتراف کیا جو، اسے سورت میں نہیں ملا۔
قرضے کی بوجھ تلے دبے ہونے کی وجہ سے اٹھایا یہ قدم: ملزم سی آر پی ایف کانسٹیبل
اس نے کہا کہ اس نے یہ قدم انتہائی مالی پریشانی کی وجہ سے اٹھایا۔ اس نے بتایا کہ اس کے بھائی کے کینسر کے علاج نے ان پر 15 لاکھ روپے کا قرض چڑھا دیا تھا، جو پورا کرنا اس کی 46,000 روپے ماہانہ تنخواہ میں ممکن نہیں تھا، کیوں کہ اس میں سے 26,000 روپے ہوم لون EMIs میں چلے جاتے ہیں۔ اور بقیہ پیسوں سے ضروری اخراجات پورے کرنے ہوتے ہیں۔
پولیس ذرائع کے مطابق ناہک نے پہلے بھی اپنے سی آر پی ایف شناختی کارڈ کا استعمال ٹرین کے ذریعے گانجا اسمگل کرنے کے لیے کیا تھا، جو ایک بار کامیاب رہا تھا۔ اس کامیابی سے حوصلہ پا کر اس نے دوسری کوشش کی۔ پولیس نے اب ناہک کے سپلائی نیٹ ورک کا پتہ لگانے اور سورت میں مطلوبہ خریدار کی شناخت کے لیے تفتیش شروع کر دی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


