Bharat Express DD Free Dish

J&K SIA raids: کشمیر میں ’’سلیپر سیل‘‘ کے خلاف جاری ہے حکومت کا کریک ڈاؤن، ریاستی تحقیقاتی ایجنسی نے مارے 11 مقامات پر چھاپے

ریاستی تحقیقاتی ایجنسی (ایس آئی اے) کی طرف سے وسطی اور شمالی کشمیر میں تقریباً 11 مقامات پر آج چھاپے مارے گئے ہیں۔

تصویر: اے این آئی

ریاستی تحقیقاتی ایجنسی (ایس آئی اے) کی طرف سے وسطی اور شمالی کشمیر میں تقریباً 11 مقامات پر آج چھاپے مارے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ اس ہفتے کے شروع میں بھی جنوبی کشمیر میں اسی طرح کے چھاپے سلیپر سیل ماڈیولز کی جاری تحقیقات کے حصے کے طور پر مارے گئے تھے اور لگاتار جاری ہیں۔

ریلیز کے مطابق یہ چھاپے مختلف دفعات کے تحت درج مقدمات کی تفتیش کے سلسلے میں مارے گئے۔ مجاز عدالت نے ان تلاشیوں کی اجازت دی ہے، جو ایگزیکٹو مجسٹریٹس کی موجودگی میں کی جا رہی ہیں۔ حکام نے بتایا کہ چھاپوں کے دوران، کافی حد تک مجرمانہ مواد قبضے میں لیا گیا ہے اور مشتبہ افراد کو مزید پوچھ گچھ کے لیے گرفتار کر لیا گیا ہے۔

سلیپر سیل کرتے ہیں دہشت گردوں کی مدد

ابتدائی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ دہشت گردوں کی مدد کرنے والے یہ سلیپر سیل کے افراد ہندوستان مخالف بیانیے کو آگے بڑھانے میں سرگرم ہیں، جس کا مقصد نہ صرف ہندوستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو چیلنج کرنا ہے بلکہ بے اطمینانی، عوامی انتشار اور فرقہ وارانہ نفرت کو بھڑکانا بھی ہے۔ دریں اثنا ریاستی تحقیقاتی ایجنسی قومی سلامتی کے تحفظ اور امن عامہ کو برقرار رکھنے کے لیے لگاتار کام کر رہی ہے۔

جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ آن لائن بنیاد پرستی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے لیے SIA کی جانچ کے تحت زیادہ تر افراد 18 سے 22 سال کے کم عمر کے گروپ سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس تناظر میں ان کے اساتذہ، والدین اور ساتھیوں کا کردار انتہائی اہم ہو جاتا ہے۔ اگرچہ مستقل نگرانی ہمیشہ ممکن نہیں ہوسکتی ہے، لیکن اگر ایسی کوئی بات سامنے آئے تو بروقت رہنمائی کرنی چاہیے اور اگر ضروری کو اس کی اطلاع مقامی پولیس حکام کو دی جانی چاہیے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read