نئی دہلی: جامعہ اسلامیہ سنابل کی جامع مسجد عمر بن الخطاب میں تعلیمی سال 26-2025 کے فارغین سنابل کے لیے آج جلسہ تقسیم اسناد کا انعقاد ہوا۔ جلسہ کی صدارت ابوالکلام آزاد اسلامک اویکننگ سنٹر کے صدر عمومی مولانا محمد رحمانی نے کی۔ نظامت کے فرائض مولانا عبدالبر سنابلی مدنی نے انجام دیے۔ مہمان خصوصی کی حیثیت سے مولانا محمد اشفاق سلفی مدنی (مدرس مدرسہ اسلامیہ بھوارہ، مدھوبنی، بہار) اور محمد اویس (چیئرمین وقف بورڈ، حکومت پنجاب) رونق اسٹیج رہے۔ پروگرام کا آغاز ثانیہ عالیہ کے طالب علم عاصم مشتاق احمد کی تلاوت قرآن کریم سے ہوا۔ بعد ازاں اخلاق معراج معراج الدین متعلم ثانیہ عالیہ نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا۔ اس کے بعد فارغین کی طرف سے اردو، عربی اور انگریزی میں بالترتیب عبد اللہ محمد عرفان، عبد العظیم عبدالرب اور عبد المصور نعمانی مبشر حسن نے اپنے تاثرات پیش کیے۔ پھر تعلیمی سال 26-2025 ءمیں تعلیم وسلوک میں ممتاز طلبہ کے مابین نقدی انعامات تقسیم کیے گئے۔ اس کے بعد فارغین سنابل کے 39 ویں بیچ کے درمیان 46 طلبہ کو سند فضیلت اور یادگاری شیلڈ تقسیم کی گئی واضح رہے کی فارغین کو علمی کتابوں کا سیٹ پہلے ہی دے دیا گیا تھا۔
آپ انبیاء کے وارث اور علم شریعت کے محافظ ہیں: مولانا محمد اشفاق
تقسیم اسناد کے بعد مہمانان خصوصی کی خدمت میں مرکز کی جانب سے بدست صدر مرکز و جوائنٹ سکریٹری نے مومنٹو پیش کیا۔ بعد ازاں مہمانوں کے تاثراتی کلمات کا سلسلہ شروع ہوا۔ سب سے پہلے مولانا محمد اشفاق سلفی نے اپنا تاثراتی خطاب پیش کیا۔ دوران خطاب طلبہ سے مخاطب ہوتے ہوئے آپ نے قرآنی آیت ”رب زدني علما“ کی روشنی میں کہا کہ سوائے علم کے دنیا کی کوئی دوسری ایسی نعمت نہیں جس کی زیادتی کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہو۔ اور قرآنی آیت ” فلو لا نفر من کل فرقة منھم طائفة لیتفقھوا فی الدین۔۔۔“ کی تفسیر کی اور تفقہ في الدین پر ابھارتے ہوئے کہا کہ اللہ کے دین کی معرفت، عقائد کا پختہ علم ، مسائل دین اور فروعات کا علم حاصل کرنا اور نصوص کتاب و سنت کی روشنی میں راجح مرجوح کو سمجھنا از حد ضروری اور فرض کفایہ ہے۔ اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے امت کے افراد میں سے آپ کا انتخاب کیا ہے۔ لہٰذا حصول علم کے بعد اب آپ کی ذمہ داری ہے کہ اپنی اپنی بستیوں میں جاکر پیغام ربانی ”ولینذروا قومھم اذا رجعوا الیھم“ کے بموجب تبلیغ دین کا فریضہ انجام دیں اور ایک مستند عالم کی حیثیت سے زندگی گذاریں۔ واضح رہے کہ آپ پوری امت کی طرف سے کفایت کررہے ہیں۔ فرض عین کے ساتھ فرض کفایہ ادا کرنے والے صرف فرض عین کی ادائیگی کرنے والوں سے بہتر ہیں۔ خصوصی طور پر فارغین کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ آپ کتب احادیث ، شروحات ، عقائد اور فقہ کی کتابوں کا مطالعہ کریں اور پوری بصیرت کے ساتھ جس انبیائی مشن کے آپ وارث بنے ہیں اس کو لے کر آگے بڑھیں۔ آپ انبیاءکے وارث اور علم شریعت کے محافظ ہیں۔ آپ کے وجود سے دنیا کا وجود قائم ہے۔علماءحق کا اٹھ جانا قیامت کی نشانیوں میں سے ہے ، جس دن آپ نہ ہوں گے قیامت آجائے گی۔ نیز فارغین کو آیت کریمہ ”انما یخشی اللّٰہ من عبادہ العلماء“ کی روشنی میں خشیت الٰہی کی تلقین کی اور کہا کہ خشیت، علم اور معرفت الٰہی سے ہی حاصل ہوتی ہے، جتنی معرفت ہوگی ، علم جتنا گہرا ہوگا اتنا ہی انسان خشیت الٰہی سے سرشار ہوگا ۔ مزید کہا کہ پورے اخلاص کے ساتھ دعوت دین کے کام میں لگ جائیں۔ اگر آپ اللہ کی رضا کے لیے اس مشن کو آگے لے کر چلیں گے تواللہ آپ کو ضائع نہیں کرے گا۔ عمومی طور پر تمام طلبہ کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ آپ جس مدرسے کے طالب علم ہیں وہ سلفیت کا علم بردار ہے، اس کی اپنی ایک شناخت ہے خصوصا اس کے بانی علامہ عبد الحمید رحمانی رحمہ اللہ سلفی منہج کے داعی اور اس کے علمبردار تھے اور پورے ہند وستان میں مورخ اہل حدیث کے نام سے جانے جاتے تھے۔ ادارہ کے موجودہ صدر عمومی مولانا محمد رحمانی بھی اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے سلفیت کی آبیاری میں لگے ہوئے ہیں اور سلفیت کے دفاع اور اس کی نشر و اشاعت کے سلسلے میں وہ کام کر رہے ہیں، جو کام وہ تنہا کر رہے ہیں وہ درحقیقت ایک پوری جماعت کا کام ہے۔ اللہ ان کی اور ان کی پوری ٹیم کی کاوشوں کو قبول فرمائے۔ شیخ محترم نے بالخصوص فارغین فضیلت کو بڑی دل سوز نصیحتیں کیں۔
حسن اخلاق کو اپنا شیوہ بنائیں، عالم باعمل بنیں : محمداویس
محمد اویس (چیئرمین وقف بورڈ، حکومت پنجاب) نے اپنے تاثرات پیش کیے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں میرے آنے کا اصل مقصد آپ طالبان علوم نبوت سے ملاقات، علماء کی صحبت اور ان کے علم سے استفادہ کرنا ہے۔ طلبہ کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ اپنی ذمہ داری نبھائیں ، عالم باعمل بنیں۔ اپنی کمیوں کو پہچانیں۔ اپنے علمی سفر کو ماند نہ پڑنے دیں۔ اپنے بڑوں اور اساتذہ کا احترام کریں، حسن اخلاق کو اپنا شیوہ بنائیں، مہمان نوازی کی صفت اپنے اندر پیدا کریں اورخود کا محاسبہ کرتے رہیں۔ اخیر میں آپ نے مرکز کے بانی علامہ عبد الحمید رحمانی رحمہ اللہ اور ان کے فرزند ارجمند موجودہ صدر مرکز محترم جناب مولانا محمد رحمانی حفظہ اللہ سے عقیدت و محبت اور ادارہ کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیااور دعائیہ کلمات کے ساتھ اپنی گفتگو ختم کی۔
سلفی غیرت سے کسی صورت میں سمجھوتہ نہ کریں: مولانا صلاح الدین مقبول
مولانا صلاح الدین مقبول نے اپنے خطاب میں طلبہ کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ اپنے اندر دینی غیرت پیدا کریں، اسلامی غیرت کے خلاف کوئی بھی کام نہ کریں اور سلفی غیرت سے کسی صورت میں سمجھوتہ نہ کریں۔ نیز تبلیغ دین کے سلسلے میں جو کچھ محنت ہو سکے کریں۔ مایوس نہ ہوں کیونکہ مایوسی کفر ہے۔ جب بھی خطبات و دروس کا موقع ملے تو اسے غنیمت جانیں اور تبلیغ دین کا جو مشن آپ کے حوالے کیا گیا ہے پوری ذمہ داری کے ساتھ اسے آگے بڑھائیں۔ اخیر میں آپ نے دعائیہ کلمات پر اپنے خطاب کا اختتام کیا۔
مروت، انسانیت اور شرافت کی تجدید کریں: مولانا محمد رحمانی
پروگرام کے آخر میں مرکز کے صدر عمومی ممولانا محمد رحمانی سنابلی مدنی کا صدارتی خطاب ہوا۔ خطاب کے آغاز میں آپ نے کہا کہ ادارہ کو قائم ہوئے 46 برس ہوگئے ہیں اور آج ادارہ الحمد للہ، اللہ کی نصرت و تائید کے ساتھ اپنے فارغین کے سہارے اور طاقت پر کھڑا ہوا ہے اور اسکے ذمہ داران میں اکثریت سنابلی فضلا کی ہے۔ حدیث نبوی ”اذا مات الانسان انقطع عنہ عملہ الا من ثلاث۔۔۔۔الخ“ کی روشنی میں فارغین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ اپنے والدین اور اساتذہ کے لیے ولد صالح بنیں۔ نیز کہا کہ مروت ، انسانیت اور شرافت کی تجدید کریں۔ مروت کی تشریح میں امام شافعی رحمہ اللہ کا قول پیش کرتے ہوئے کہا کہ مروت کے چار ارکان ہیں۔ حسن خلق ، سخاوت ، تواضع اور عبادت۔ فارغین کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ آج کے دور کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ لوگ مال و دولت کی بنیاد پر دین سے سمجھوتہ کر لیتے ہیں۔ آپ کسی بھی صورت دین اور اس کے شعائر سے سمجھوتہ نہ کریں، چاہے ساری دنیا مخالف ہو جائے۔ منہجی غیرت کے فقدان سے بچیں ، دین کے اصولوں پر قائم رہیں ، حلال پر اکتفا کریں اور سنابل کی اس چہار دیواری میں جو کتاب و سنت کا علم آپ نے حاصل کیا ہے اسے قیمتی سرمایہ سمجھیں۔ اپنے اعمال اسی کی روشنی میں انجام دیں۔ اس ضمن میں علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا قول ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہودیوں کی خرابی کی بنیاد علم کے باوجود اس پر عمل پیرا نہ ہونا تھی جبکہ نصاری کی خرابی کی بنیاد بغیر علم کے عمل کرنا تھی۔ ان دونوں طریقوں سے اپنے آپ کو بچائیں اور خود کو امت وسط ہونے کا مصداق بنائیں۔ خطاب کے آخر میں آپ نے کہا کہ ملکی نظام کا احترام کریں اور جس بھی ادارہ سے جڑیں وہاں کے نظام کا احترام کریں ، اپنے بڑوں کے احترام کو لازم پکڑیں۔ زمانہ کے فتنوں سے خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی بچائیں۔ اخیر میں تمام حاضرین کے شکریہ اور دعائیہ کلمات کے ساتھ آپ نے اپنی گفتگو مکمل کی۔ پروگرام کے بعد مہمانان گرامی قدر اور استاذہ وفارغین سنابل کی خدمت میں عشائیہ پیش کیا گیا ۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


