Bharat Express DD Free Dish

Congress demands resignation from Odisha CM Mohan Manjhi: اوڈیشہ جنسی استحصال اورخودسوزی معاملہ پرکانگریس کا بڑا الزام، وزیراعلیٰ موہن مانجھی سے الکا لانبا نے مانگا استعفیٰ

آل انڈیا مہیلا کانگریس کمیٹی کی صدر الکا لانبا نے کہا کہ اوڈیشہ میں خواتین کے خلاف جرائم اس لئے بڑھ رہے ہیں کیونکہ بی جے پی-آرایس ایس اور اے بی وی پی کے لوگ جرائم پیشوں کوتحفظ فراہم کرنے میں مصروف ہیں۔

آل انڈیا مہیلا کانگریس کی صدر الکا لانبا اور کانگریس ایم ایل اے صوفیہ فردوس نے کانگریس ہیڈ کوارٹر میں پریس کانفرنس کی۔

نئی دہلی: اوڈیشہ کے بالاسورمیں جنسی استحصال کا معاملہ طول پکڑتا جا رہا ہے۔ اس تعلق سے انصاف نہ ملنے پر کالج طالبہ کے ذریعہ خود سوزی کی کوشش کی گئی اوراب اس معاملہ میں کانگریس نے اڈیشہ کے وزیراعلیٰ موہن مانجھی سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے۔ ساتھ ہی اس واقعہ کی عدالتی جانچ کا مطالبہ بھی سامنے رکھا گیا ہے۔ اندرا بھون واقع کانگریس ہیڈ کوارٹرمیں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آل انڈیا مہیلا کانگریس کمیٹی کی صدرالکا لانبا اوراوڈیشہ سے کانگریس ایم ایل اے صوفیہ فردوس نے کہا کہ بی جے پی حکومت میں اوڈیشہ کی بیٹیوں کے لیے موت کا کنواں بنتا جا رہا ہے۔

طالبہ کو دھمکی دے کر دباؤ بنانے کا الزام

الکا لانبا نے کہا کہ ’’بی ایڈ کی 20 سالہ طالبہ نے 30 جون کوبالاسورکے فقیرموہن کالج کے پرنسپل دلیپ گھوش کوایچ اوڈی سمیرکمارساہو کے ذریعہ مسلسل جنسی استحصال کی حرکتوں کے بارے میں بتایا تھا۔ یکم جولائی کوطالبہ نے بی جے پی رکن پارلیمنٹ، اوڈیشہ کے وزیر اعلیٰ اورڈپارٹمنٹ سے شکایت کی۔ ڈپارٹمنٹ نے طالبہ کوہی الٹے دھمکی دے دی کہ اگروہ الزام ثابت نہیں کرپائی تواس پرکارروائی ہوگی۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’معاملہ کی جانچ کررہی کمیٹی نے 10 دنوں تک ایچ اوڈی کی جگہ طالبہ سے ہی سوال پوچھے۔ طالبہ 11 دن بعد دھرنے پربیٹھ گئی، لیکن جب انصاف کی امید ہی ختم ہوگئی تواس نے کالج احاطہ میں خود کوآگ کے حوالے کردیا۔ طالبہ 95 فیصد جل چکی ہے اورایمس بھونیشورمیں سنگین حالت میں بھرتی ہے۔‘‘

جرائم پیشہ عناصرکو تحفظ فراہم کررہی ہے بی جے پی: کانگریس

الکا لانبا نے میڈیا سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ اڈیشہ میں خواتین کے خلاف جرائم اس لیے بڑھ رہے ہیں، کیونکہ بی جے پی-آر ایس ایس-اے بی وی پی جرائم پیشوں کو تحفظ فراہم کرنے میں مصروف ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ متاثرہ طالبہ اے بی وی پی کی عہدیدار ہے اور اس نے وزیراعظم نریندرمودی کے اڈیشہ دورہ کے دوران ملاقات کی کوشش کی تھی، لیکن اسے روک دیا گیا تھا۔ کانگریس نے یہ بھی کہا کہ اوڈیشہ کے ساتھ ساتھ بہار، اتر پردیش، اتراکھنڈ، راجستھان سمیت بی جے پی حکمراں دیگرریاستوں میں بھی جرائم عروج پرہے۔ اوڈیشہ میں بی جے پی کی ایک سال کی حکومت میں خواتین کے خلاف جرائم کے اعداد وشمارپیش کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ خواتین کے خلاف جرائم کے 2 لاکھ 14 ہزار113 معاملے سامنے آئے۔ عصمت دری کے 3 ہزار54 اورقتل کے 1207 معاملے درج ہوئے۔

الکا لانبا نے اڈیشہ دورے پرگئیں صدرجمہوریہ دروپدی مرموسے بھی اپیل کی کہ وہ اس طالبہ سے ملاقات کریں، جواسی ایمس میں زیر علاج ہے، جہاں صدرجمہوریہ جلسۂ تقسیم اسناد تقریب میں شامل ہوں گی۔ انہوں نے زوردے کرکہا کہ دروپدی مرمو ملک کی صدرہیں اور وہ اوڈیشہ کی ہی ہیں، اس لیے انھیں طالبہ سے ملاقات کرنی چاہئے تھی۔

پریس کانفرنس میں الکا لامبا نے یہ جانکاری بھی دی کہ کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے اس معاملے پراراکین پارلیمنٹ کے ایک نمائندہ وفد کومتاثرہ کنبہ سے ملاقات کرنے بھیجا تھا۔ یہ رپورٹ جلد ہی منظرعام پرلائی جائے گی اورکانگریس ہر طرح سے متاثرہ کوانصاف دلانے کی کوشش کرے گی۔ ساتھ ہی انھوں نے بتایا کہ کانگریس کارکنان جب متاثرہ طالبہ سے ملاقات کے لیے گئے توبی جے پی حکومت اوراے بی وی پی نے انھیں ملاقات نہیں کرنے دیا۔

 آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے دفتر میں منعقدہ پریس کانفرنس کوالکا لانبا کے علاوہ کانگریس رکن اسمبلی صوفیہ فردوس نے بھی خطاب کیا۔ انھوں نے کہا کہ آج ایک بارپھرسے اوڈیشہ خواتین کے خلاف ہورہے جرائم کی وجہ سے سرخیوں میں ہے۔ یہ ایک سنگین معاملہ ہے۔ آج اوڈیشہ میں ہرجگہ خواتین اوربچیوں کے خلاف جرائم ہو رہے ہیں۔ انھوں نے وزیراعظم مودی سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی خاموشی توڑ کر اوڈیشہ کی عوام کوجواب دیں۔

بھارت ایکسپریس اردو-



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read