Bharat Express DD Free Dish

Suresh Kalmadi Dies: سابق مرکزی وزیر اور کانگریس کے سینئر لیڈرسریش کلماڈی کا تقریباً 82 برس کی عمر میں انتقال

سریش کلماڈی پونے سے سابق رکنِ پارلیمنٹ رہ چکے تھے اور مرکزی حکومت میں ریلوے کی وزارت میں مملکتی وزیر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دے چکے تھے۔ وہ کافی عرصے سے بیمار تھے اور اسی طویل بیماری کے دوران ان کا انتقال ہوا۔

سابق مرکزی وزیر، کانگریس کے سینئر لیڈراور پونے سے سابق رکن پارلیمنٹ سریش کلماڈی کا منگل 6 جنوری کی علی الصبح انتقال ہو گیا۔ وہ تقریباً 82 برس کے تھے اور مہاراشٹر کے شہر پونے میں طویل علالت کے بعد صبح تقریباً 3 بج کر 30 منٹ پر انہوں نے آخری سانس لی۔ ان کے انتقال کی خبر سے سیاسی اور کھیلوں کے حلقوں میں گہرے رنج و غم کا ماحول ہے۔خاندانی ذرائع کے مطابق سریش کلماڈی کے پارتھو شریر کو منگل کی دوپہر 2 بجے تک پونے کے ایرنڈوانے علاقے میں واقع کلماڈی ہاؤس میں آخری دیدار کے لیے رکھا جائے گا۔ اس کے بعد دوپہر 3 بج کر 30 منٹ پر پونے کے نوی پیٹھ علاقے میں واقع ویکنٹھ شمشان بھومی میں ان کی آخری رسومات ادا کی جائیں گی۔

سریش کلماڈی پونے سے سابق رکنِ پارلیمنٹ رہ چکے تھے اور مرکزی حکومت میں ریلوے کی وزارت میں مملکتی وزیر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دے چکے تھے۔ وہ کافی عرصے سے بیمار تھے اور اسی طویل بیماری کے دوران ان کا انتقال ہوا۔ ان کا شمار کانگریس کے قد آور اور سینئر لیڈروں میں ہوتا تھا، اگرچہ گزشتہ چند برسوں سے وہ فعال سیاست میں نظر نہیں آ رہے تھے۔سریش کلماڈی کا نام خاص طور پر سال 2010 میں منعقد ہونے والے کامن ویلتھ گیمز سے جڑا رہا۔ ان کھیلوں کے انعقاد کے دوران انتظامات اور ٹھیکوں کی تقسیم میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی، مالی بے ضابطگیوں اور دھوکہ دہی کے الزامات سامنے آئے تھے۔ انہی الزامات کے تحت انہیں گرفتار کیا گیا تھا اور ان کے خلاف مجرمانہ سازش کے مقدمات بھی چلے، جس کے باعث ان کا سیاسی کیریئر شدید تنازع کا شکار رہا۔

سیاسی زندگی کے علاوہ سریش کلماڈی کھیلوں کے منتظم کے طور پر بھی خاصے سرگرم رہے۔ وہ طویل عرصے تک بھارتی اولمپک ایسوسی ایشن کے صدر رہے اور کھیلوں کی تنظیم و انتظام میں ان کا اثر و رسوخ رہا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ کامن ویلتھ گیمز تنازع کے بعد انہوں نے زیادہ تر عوامی سرگرمیوں سے خود کو الگ کر لیا تھا۔سریش کلماڈی یکم مئی 1944 کو پیدا ہوئے تھے۔ ان کی شادی ایس میرا کلماڈی سے ہوئی، جن سے انہیں دو بیٹے اور ایک بیٹی ہیں۔ سال 1982 میں وہ راجیہ سبھا کے رکن منتخب ہوئے، جب کہ 1995 میں انہیں مرکزی حکومت میں مملکتی وزیر کی ذمہ داری سونپی گئی۔ وہ پونے لوک سبھا حلقے سے کئی مرتبہ رکنِ پارلیمنٹ منتخب ہوئے۔ سیاست میں آنے سے قبل وہ بھارتی فضائیہ میں پائلٹ بھی رہ چکے تھے اور بعد ازاں انہوں نے عملی سیاست میں قدم رکھا۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read