نئی دہلی : بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیڈراور سابق مرکزی وزیر روی شنکر پرساد اور سابق مرکزی وزیر اسمرتی ایرانی نے دہلی میں بی جے پی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے لوک سبھا میں خواتین کے ریزرویشن ترمیمی بل کی حمایت نہ کرنے پر کانگریس اور اپوزیشن جماعتوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔اسمرتی ایرانی نے کہا کہ کانگریس نے خواتین کو یہ تاثر دیا کہ وہ ان کے حقوق کی علمبردار ہے، لیکن حقیقت پارلیمنٹ میں سب کے سامنے آ گئی ہے۔ ان کے مطابق اپوزیشن نے بل کی مخالفت کر کے خواتین کی سیاسی خواہشات کو نقصان پہنچایا اور پھر اس پر جشن بھی منایا۔
اسمرتی ایرانی نے الزام لگایا کہ کانگریس کی حکومتوں کے دور میں دہائیوں تک خواتین بنیادی سہولتوں سے محروم رہیں، جب کہ بی جے پی حکومت میں خواتین کے لیے فلاحی اقدامات اور “جینڈر بجٹ فریم ورک” جیسے اقدامات شروع کیے گئے۔اسمرتی ایرانی نے مزید کہا کہ اپوزیشن جماعتوں نے خواتین کو صرف 33 فیصد ریزرویشن کے حق سے محروم کرنے کی کوشش کی، جو ان کے مطابق ایک “سیاسی رویہ” اور “عدم مساوات” کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے لیے یہ مسئلہ اقتدار نہیں بلکہ برابری کے حق کی جدوجہد ہے۔
انہوں نے کانگریس پر یہ بھی الزام لگایا کہ وہ آئینی نظام اور پارلیمنٹ پر اعتماد نہیں رکھتی اور خواتین کے حقوق کے معاملے پر دوہرا معیار اختیار کرتی ہے۔دوسری جانب سابق مرکزی وزیر روی شنکر پرساد نے بھی کانگریس اور اپوزیشن پر سخت حملہ کیا۔ انہوں نے کانگریس لیڈر پرینکا گاندھی کے بیان پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کے حوالے سے “استعمال” جیسے الفاظ کا استعمال قابلِ مذمت ہے۔انہوں نے آئینی شقوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حلقہ بندی (Delimitation) کے بغیر پارلیمانی نشستوں کی تقسیم ممکن نہیں، اور اسی عمل کے تحت خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن کا عملی نفاذ ممکن ہوگا۔ ان کے مطابق مستقبل میں نشستوں کی تعداد بڑھا کر نمائندگی کو بہتر بنایا جائے گا۔روی شنکر پرساد نے یہ بھی کہا کہ کچھ اپوزیشن جماعتیں بالواسطہ طور پر خواتین کو سیاسی نمائندگی سے محروم رکھنے کے ذمہ دار ہیں، اور یہ طرزعمل جمہوری اصولوں کے خلاف ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



