جھارکھنڈ کے دارالحکومت رانچی میں پیرکے روزطلبا پرہوئے لاٹھی چارج کے خلاف ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ (سی جے پی) نے حکومت کے خلاف سخت ناراضی کا اظہارکیا ہے۔ جھارکھنڈ میں سی جے پی کے رکن روی پیٹرنے کہا کہ جس طرح طلبہ کوپیٹا گیا، وہ انتہائی قابل مذمت ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ موجودہ حکومت ’گروجی‘ کے اصولوں سے بھٹک گئی ہے۔ روی پیٹرنے کہا کہ اب پارٹی جھارکھنڈ کے تمام 24 اضلاع میں طلبا کودوبارہ عوامی تحریک کے لئے متحد کرے گی اورحکومت کواقتدارسے ہٹانے کی کوشش کی جائے گی۔
عوامی تحریک کا خاکہ تیارکریں گے: روی پیٹر
روی پیٹرنے کہا کہ طلبا مسلسل بھوک ہڑتال کررہے ہیں اورحکومت کے نمائندوں سے ان کی ملاقاتیں بھی ہورہی ہیں، لیکن حکومت نے طلبا کے مطالبات پردوقدم آگے بڑھنے کی بھی کوشش نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ پورے جھارکھنڈ میں عوامی تحریک کا خاکہ تیارکیا جائے گا۔ مختلف مقامات پرطلبا کی جانب سے جاری بھوک ہڑتال بھی جاری رہے گی۔
’جمہوریت میں سیاست کے بغیرکچھ ممکن نہیں‘
سی جے پی کے رکن کملیش نے کہا کہ پیرکی شام تقریباً 7 بجے اچانک اندھیرے میں پولیس نے طلبا پرمبینہ طورپربے رحمی سے لاٹھی چارج کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ جمہوریت کی علامت نہیں ہے اوراس واقعہ سے ثابت ہوگیا ہے کہ حکومت آمرانہ اندازمیں کام کررہی ہے۔ کملیش نے کہا کہ وہ سیاسی زبان استعمال نہیں کرنا چاہتے تھے، لیکن اب ایسا کرنا پڑرہا ہے، کیونکہ جمہوریت میں سیاست کے بغیرکچھ بھی ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے طلبا کے مطالبات کوجائزقراردیتے ہوئے کہا کہ ٹی ڈی پی ایل کمپنی کی جانب سے لئے گئے تمام امتحانات منسوخ کئے جائیں اورجے ایس ایس سی-سی جی ایل امتحان بھی منسوخ کیا جائے۔
’آپ عوام کے خادم ہیں، مالک نہیں‘
کملیش نے وزیراعلیٰ ہیمنت سورین کومخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگروہ وزیراعلیٰ سے مطالبہ نہیں کریں گے توکیا ڈونلڈ ٹرمپ یا شی جنپنگ کے پاس جائیں گے؟ کیا مطالبات لے کرشمالی کوریا کے کم جونگ اُن کے پاس جائیں؟ انہوں نے سوال کیا کہ کیا حکومت لاٹھی کے زورپرطلبا اورعوام کی آوازدبانے کی کوشش کرے گی؟ ایسا ممکن نہیں ہے۔ جمہوریت میں ہرشخص کو اپنی بات رکھنے کی آزادی ہے۔ کملیش نے کہا کہ حکومت کے پاس جتنا اختیارہے، اتنا ہی اختیارعوام کے پاس بھی ہے۔ اگرحکومت خود کوعوام کا مالک سمجھتی ہے تویہ اس کی غلط فہمی ہے۔ آپ عوام کے خادم ہیں، مالک نہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


