Bharat Express DD Free Dish

Explainer: کوچنگ مافیا، روزگار کا بحران اور ٹوٹتے خواب… مودی حکومت میں کہاں پہنچا بھارت کا تعلیمی نظام؟

India’s Education System: آج سے تقریباً 150 سال پہلے میکالے کے دور میں شروع ہونے والی نوآبادیاتی تعلیمی پالیسیوں کے اثرات پر آج بھی بحث جاری ہے، لیکن موجودہ دور میں بھارت کے تعلیمی نظام کو درپیش بحران نے ایک نیا سوال کھڑا کردیا ہے۔ نریندر مودی حکومت کے دور میں تعلیم اور روزگار سے متعلق بڑے دعووں کے باوجود لاکھوں نوجوان مسابقتی امتحانات، مہنگی کوچنگ اور محدود سرکاری ملازمتوں کے درمیان پستے نظر آتے ہیں۔

ملک کے تقریباً ہر بڑے شہر سے لے کر چھوٹے قصبوں تک کوچنگ اداروں کا جال پھیل چکا ہے۔ سرکاری ملازمت کی تیاری کے نام پر طلبہ اور ان کے والدین سے بھاری فیس وصول کی جاتی ہے۔ کئی نوجوان برسوں تک ایک امتحان سے دوسرے امتحان کی تیاری کرتے رہتے ہیں، لیکن خالی آسامیوں کی محدود تعداد اور امتحانات میں تاخیر، منسوخی یا تنازعات ان کے مستقبل کو غیر یقینی بنا دیتے ہیں۔

تعلیم سے زیادہ کوچنگ پر انحصار کیوں؟

مودی حکومت نے نئی تعلیمی پالیسی اور تعلیم میں ٹیکنالوجی کے استعمال سمیت متعدد اصلاحات کا اعلان کیا، لیکن ناقدین کا سوال ہے کہ اگر اسکول اور کالج کی تعلیم ہی طلبہ کو مسابقتی امتحانات کے لیے تیار نہیں کر پا رہی تو کوچنگ صنعت پر انحصار کیوں مسلسل بڑھ رہا ہے؟ کوچنگ کا بڑھتا کاروبار صرف تعلیمی مسئلہ نہیں بلکہ معاشی عدم مساوات کا بھی مسئلہ ہے۔ دولت مند خاندان اپنے بچوں کو مہنگی کوچنگ، رہائش اور اضافی سہولیات فراہم کرسکتے ہیں، جبکہ غریب اور متوسط طبقے کے طلبہ محدود وسائل کے ساتھ اسی دوڑ میں شامل ہونے پر مجبور ہیں۔

سرکاری نوکریوں کی دوڑ اور نوجوانوں کی مایوسی

ملک میں سرکاری ملازمت آج بھی کروڑوں نوجوانوں کے لیے محفوظ مستقبل کی علامت ہے۔ لیکن لاکھوں امیدواروں کے مقابلے میں محدود آسامیاں نوجوانوں کے لیے شدید مقابلے کا سبب بن رہی ہیں۔ امتحانات کے انعقاد میں تاخیر، پرچے لیک ہونے کے الزامات اور بھرتی کے عمل میں طویل انتظار نے اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ یہ سوال اب مودی حکومت سے بھی کیا جا رہا ہے کہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد نوجوانوں کے لیے مناسب روزگار کے مواقع کہاں ہیں؟ حکومت کی جانب سے اسکل ڈیولپمنٹ، اسٹارٹ اپ اور روزگار کے متعدد منصوبوں کا اعلان ضرور کیا گیا، لیکن ڈگری حاصل کرنے والے نوجوانوں کی بڑی تعداد کے لیے مستقل اور باعزت روزگار اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔

حکومت کے دعوے اور زمینی حقیقت

مودی حکومت نے بھارت کو نوجوانوں کی طاقت اور دنیا کی تیسری بڑی معیشت بنانے کا ہدف پیش کیا ہے۔ لیکن اگر نوجوانوں کو معیاری تعلیم، سستی اعلیٰ تعلیم اور مناسب روزگار نہیں ملتا تو یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ ترقی کے اس ماڈل میں نوجوانوں کا مستقبل کہاں ہے؟ تعلیمی اداروں میں بنیادی سہولیات، اساتذہ کی کمی، سرکاری اسکولوں کی صورتحال اور اعلیٰ تعلیم کے بڑھتے اخراجات بھی حکومت کے سامنے بڑے چیلنج ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ صرف نئی پالیسیوں اور بڑے اعلانات سے تعلیمی نظام تبدیل نہیں ہوگا، بلکہ اسکول سے لے کر یونیورسٹی اور تعلیم سے روزگار تک پورے نظام میں بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ تعلیم کسی بھی ملک کے مستقبل کی بنیاد ہوتی ہے۔ اگر نوجوان برسوں تک مہنگی کوچنگ کے باوجود ایک محدود تعداد میں سرکاری ملازمتوں کے لیے جدوجہد کرتے رہیں تو یہ صرف نوجوانوں کا بحران نہیں بلکہ ملک کے تعلیمی اور روزگار کے نظام کے لیے بھی ایک بڑا سوال ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read