بھارت ایکسپریس کے سی ایم ڈی اُپیندر رائے نے پریاگ راج کے میجا روڈ واقع شری کاشی پرساد سنگھ انٹرمیڈیٹ کالج کے سالانہ پروگرام میں انسانی ترقی کے تین لاکھ سالہ تاریخ کا خاکہ پیش کیا۔ انہوں نے تہذیب کے ارتقا کو 12 ادوار میں بیان کرتے ہوئے جدید معاشرے کی ذہنی حالت کا سخت تجزیہ کیا۔
آگ کی دریافت سے اے آئی کے دور تک کا سفر
اُپیندر رائے نے بتایا کہ انسانی تہذیب کی سب سے بڑا انقلاب ’آگ‘ کی دریافت تھی۔ اسی نے ابتدائی انسان کو جانوروں کے خوف سے آزاد کیا اور زبان و اجتماعی زندگی کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے تہذیب کو 12 مراحل میں تقسیم کیا (آگ کی دریافت، گروہی زندگی، ہڑپہ و موہنجودڑو کی ابتدائی صنعت، بادشاہت، رشی روایت، بدھ و مہاویر کا دور، غلامی کا زمانہ، صنعتی انقلاب اور اب اے آئی کا دور)۔ انہوں نے کہا کہ ترقی کی رفتار اتنی تیز ہو چکی ہے کہ جو کام پہلے 300 سال میں ہوتا تھا، وہ اب چند دنوں میں ممکن ہے۔
بھارتی معاشرے کی ’بوڑھی سوچ‘ پر تنقید
تکنیکی ترقی کی تعریف کے ساتھ انہوں نے سماجی جمود پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایمیزون کے جنگلات میں درخت بھی 10 سال میں اپنی جگہ بدل لیتے ہیں، لیکن بھارت کا انسان درخت کی طرح ایک ہی جگہ جم گیا ہے اور کہیں ہلنا نہیں چاہتا۔ انہوں نے کہا کہ آج کے نوجوان کا جسم تو جوان ہے، مگر اس کا شعور اتنا بوڑھا ہو چکا ہے کہ وہ نامعلوم میں قدم رکھنے کا حوصلہ کھو چکا ہے۔
خطرہ مول لینا ہی اصل جدید قدر
سردار پورن سنگھ کے مضمون ’آچرن کی تہذیب‘ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اصل جدیدیت آپ کے عہدے یا خاندان میں نہیں بلکہ آپ کی روح کی بلندی میں ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس معاشرے نے خطرہ مول لینا چھوڑ دیا، وہ پیچھے رہ گیا۔ انہوں نے طلبہ کو ترغیب دی کہ صرف محفوظ راستوں پر چلنے کے بجائے کچھ نیا کرنے کا حوصلہ پیدا کریں، تبھی ہم حقیقی معنوں میں ترقی یافتہ کہلائیں گے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

