Bharat Express DD Free Dish

Chhattisgarh: چھتیس گڑھ حکومت نے پولیس ریکارڈ میں مستعمل ’اردو اور فارسی الفاظ‘ کو ’آسان ہندی الفاظ‘ سے کیا تبدیل، ’چشم دید‘ ہوگا ’پرتیاکش درشی‘

خط میں 109 الفاظ کی فہرست ان کے ہندی متبادل کے ساتھ فراہم کی گئی ہے اور انھیں پرانے اردو اور فارسی کے الفاظ کی جگہ استعمال کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

چھتیس گڑھ حکومت نے کہا ہے کہ اس نے پولیس کے سرکاری ریکارڈ میں استعمال ہونے والے اردو اور فارسی الفاظ کو ایسے ہندی اصطلاحات سے تبدیل کر دیا ہے، جنھیں عام آدمی آسانی سے سمجھ سکتا ہے۔ حکومت کے مطابق اس تبدیلی کا مقصد پولیسنگ کو مزید قابل رسائی، شفاف اور آسان بنانا ہے۔

109 الفاظ کیے گئے ہیں تبدیل

رپورٹ کے مطابق جو الفاظ بدلے ہیں ان میں چند کی مثالیں یہ ہیں: ’حلف نامہ‘ کو ’شپتھ پتر‘ ، ’دفعہ‘ کو ’دھارا‘، ’فریادی‘ کو ’شکایت کرتا‘ اور ’چشم دید‘ کو پرتیاکش درشی‘، ’خیانت‘ کو ’ہڑپنا‘، ’نقب زنی‘ کو ’سیندھ‘، ’روزنامچہ‘ کو سامانیہ دینیکی‘، ’ٖفوجداری عدالت‘ کو ’ڈانڈک نیایالیہ‘، ’جرائم‘ کو ’اپرادھ‘ اور ’ضلع بدر‘ کو ’نرواسن‘جیسے الفاظ سے تبدیل کیا گیا ہے۔

نائب وزیر اعلیٰ اور وزیر داخلہ وجے شرما کی ہدایات پر پولیس کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی پی) نے اس سلسلے میں ضلعی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پیز) کو ایک خط جاری کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ پولیس کے کام کاج میں استعمال ہونے والے مشکل اور روایتی الفاظ کو آسان اور واضح ہندی اصطلاحات کے ساتھ تبدیل کیا جانا چاہیے۔

خط میں 109 الفاظ کی فہرست ان کے ہندی متبادل کے ساتھ فراہم کی گئی ہے اور انھیں پرانے اردو اور فارسی کے الفاظ کی جگہ استعمال کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ ڈپٹی سی ایم شرما نے کہا کہ دوسری زبانوں کے الفاظ سے عام لوگ ناواقف ہیں، جس کی وجہ سے وہ نہ تو اپنی بات کو صحیح طریقے سے بیان کر پاتے ہیں اور نہ ہی اس پورے عمل کو ٹھیک سے سمجھ پاتے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ اگر پولیس کا مقصد شہریوں کی مدد اور تحفظ ہے تو اس کی زبان بھی ایسی ہونی چاہیے جو شہریوں کی سمجھ میں آئے اور ان کا اعتماد بڑھے۔

اس تبدیلی کے نفاذ کو یقینی بنانے کی ہدایت

بیان کے مطابق اس خط میں یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ تمام ماتحت افسران کو اس تبدیلی سے آگاہ کیا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ یہ حکم محض رسمی طور پر نہ رہے، بلکہ اس کا حقیقی نفاذ ریاست کے ہر پولیس چوکی، تھانے اور دفتر میں دیکھا جائے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ایف آئی آر کا طریقۂ کار، جو صرف وکلاء یا پولیس اہلکار ہی سمجھ پاتے ہیں، اب عام شہریوں کے لیے بھی قابل فہم ہوگا۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read