کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) نے ہفتہ کے روز الزام لگایا کہ پہلگام دہشت گردانہ حملوں کے بعد غیرقانونی تارکین وطن کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کے درمیان بنگالی بولنے والے مسلمانوں کو بغیر کسی تصدیق کے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ پارٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غیر قانونی تارکین وطن کے ساتھ ایک طے شدہ طریقے سے نمٹے اور ہندوستانی مسلمانوں کو بلاوجہ نشانہ نہ بنائے۔
بنگالی بولنے والے مسلمانوں کو بنایا جا رہا ہے نشانہ
ایک بیان میں،سی پی آئی (ایم) کے پولٹ بیورو نے کہا کہ وہ ’’غیر انسانی ’پش بیک‘‘ اور ’مشتبہ‘ بنگلہ دیشی شہریوں کی ملک بدری‘‘ کی مذمت کرتا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’حکومت کو ان لوگوں کے ساتھ جو غیر قانونی طور پر ملک میں داخل ہوئے ہیں، طے شدہ طریقۂ کار کے مطابق نمٹنا چاہیے۔‘‘ پارٹی نے مزید کہا کہ ’’پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد، بی جے پی کی زیر قیادت ریاستی حکومتیں اور مرکزی حکومت خاص طور پر بنگالی بولنے والے مسلمانوں کو نشانہ بنا رہی ہیں اور بغیر کسی تصدیق کے انھیں بنگلہ دیش دھکیلا جا رہا ہے۔‘‘
واضح رہے کہ کچھ رپورٹس کے مطابق کچھ حقیقی ہندوستانی شہریوں کو بھی گرفتار کر کے بنگلہ دیش بھیج دیا گیا ہے۔ پارٹی نے کہا ’’یہاں تک کہ وہ شہری بھی جنھیں غیر ملکی ٹریبونل نے غیر ملکی شہری قرار دیا تھا، لیکن جن کی اپیلیں آسام کی ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں ابھی تک زیر التوا ہیں، انھیں بھی زبردستی ملک بدر کیا گیا ہے۔ اس کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔‘‘
لوگوں کو مسلح کرنا مسائل کا حل نہیں
وہیں آسام میں عوام کو اسلحے کا لائسنس جاری کرنے کے حکومت کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے سی پی آئی-ایم نے کہا کہ بی جے پی کی زیرقیادت آسام حکومت ’’جارحانہ طور پر اپنی فرقہ وارانہ پالیسیوں پر عمل پیرا ہے اور اب اس نے ’مقامی لوگوں‘‘ کو مسلح کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ یہ ایک خطرناک فیصلہ ہے جس کے بہت دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ یہ حکومت کا فرض ہے کہ وہ امن و امان کو برقرار رکھے اور دراندازی کو بھی روکے۔ فرقہ وارانہ طور پر منتخب طبقات کو مسلح کرنا مسائل کا حل نہیں ہے۔‘‘
سی پی آئی (ایم) نے مزید مطالبہ کیا کہ حکومت غیر قانونی تارکین وطن کی شناخت کے لیے مذہب کا استعمال نہ کرے۔ پارٹی نے کہ ’’جو لوگ غیر قانونی طریقوں سے ملک میں داخل ہوئے ہیں انھیں منصفانہ ٹرائل تک رسائی کی اجازت دی جانی چاہیے۔ٗٗ
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔





