ہندو مذہب کے معروف آچاریہ پرمود کرشنم نے ہفتے کے روز مبینہ رام مندر چندہ خرد برد معاملے کی مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) سے تحقیقات کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ کروڑوں بھکتوں کے اعتماد اور آستھا کو برقرار رکھنے کے لیے اس معاملے کی اعلیٰ سطحی جانچ ضروری ہے۔ اے این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے آچاریہ پرمود کرشنم نے کہا کہ یہ معاملہ کروڑوں لوگوں کے یقین، آستھا اور بھروسے سے جڑا ہوا ہے، اس لیے رام مندر میں مبینہ گھپلے، بے ضابطگیوں اور چندے میں خرد برد کی غیرجانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔انہوں نے کہا، ’’کروڑوں لوگوں کے اعتماد کو برقرار رکھنے اور ان کی آستھا کی حفاظت کے لیے ضروری ہے کہ رام مندر میں ہونے والی مبینہ مالی بے ضابطگیوں کی سی بی آئی سے تحقیقات کرائی جائیں۔ ملک کے عوام کو وزیر اعظم نریندر مودی پر اعتماد ہے۔ صرف بھارت ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں سناتن دھرم کے پیروکار بھی ان پر مکمل بھروسہ کرتے ہیں، لیکن اس وقت وہ خود کو دھوکا کھایا ہوا محسوس کر رہے ہیں۔‘‘ آچاریہ پرمود کرشنم نے مزید کہا کہ یہ جاننا ضروری ہے کہ اس معاملے میں کون لوگ ملوث ہیں، کس نے ان افراد کو تعینات کیا اور مبینہ چوری کے دوران کون ذمہ دار تھا۔ ان کے مطابق عوامی اعتماد برقرار رکھنے کے لیے اس کیس کی مضبوط اور اعلیٰ سطحی ایجنسی سے تحقیقات ہونی چاہئیں۔
بی جے پی کا ردعمل
دوسری جانب بی جے پی کے ترجمان پرکاش ریڈی نے اتر پردیش حکومت کے اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے اس معاملے کی تحقیقات کے لیے خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) تشکیل دی ہے، جس نے 20 صفحات پر مشتمل رپورٹ پیش کی ہے۔
چندے میں خردبرد پر کیا کارروائی ہوئی اب تک؟
25 جون کو ایودھیا کے رام مندر میں موصول ہونے والے چندے میں مبینہ خرد برد کے الزام میں ایف آئی آر درج کی گئی۔ حکام کے مطابق مقدمہ بھارتیہ نیائے سنہتا (BNS) کی متعدد دفعات کے تحت اتر پردیش حکومت کی ہدایت پر درج کیا گیا ہے۔ایف آئی آر میں انوکلپ مشرا، لوکش مشرا، اویناش شکلا، ٹنو یادو، منیش یادو سمیت دیگر افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔ یہ کارروائی سابق سماجوادی پارٹی ایم ایل اے پون پانڈے کے اس الزام کے بعد عمل میں آئی، جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ رام مندر کے چندے میں 7 سے 7.5 کروڑ روپے کی مبینہ خرد برد ہوئی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


