Bharat Express DD Free Dish

سماجوادی لیڈر اسکولی بچوں کو سکھا رہے تھے ’’A for Akhilesh‘‘ اور ’’D for Dimple‘‘، مقدمہ ہوا درج

پولیس نے گڈا پر گروہی منافرت کو فروغ دینے کی دفعہ 353(2) بی این ایس کے تحت اور دلت و قبائلی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔

اتر پردیش کے ضلع سہارنپور میں پولیس نے ایک غیر منظور شدہ اسکول چلانے اور بچوں کو سیاسی نظریات سکھانے کے الزام میں سماجوادی پارٹی کے ایک رکن فرحان عالم گڈا کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ ایف آئی آر دیہات کوتوالی تھانے میں مقامی شہری مان سنگھ کی شکایت پر درج کی گئی، جس میں الزام لگایا گیا کہ گڈا بچوں کو “A for Akhilesh”، “B for Babasaheb”، “D for Dimple” اور “M for Mulayam” جیسے سیاسی ناموں کے ذریعے حروفِ تہجی سکھا رہے تھے۔

یہ واقعہ اس وقت منظرِ عام پر آیا جب گڈا کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس میں انھیں بچوں کو اسکول یونیفارم میں ایسا سبق پڑھاتے ہوئے دیکھا گیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ ’’پی ڈی اے پاٹھ شالہ‘‘ نامی اسکول گڈا نے سماجوادی پارٹی کی پسماندہ، دلت اور اقلیتی طبقوں سے جڑنے کی مہم کے تحت قائم کیا تھا۔ فرحان عالم گڈا کا کہنا ہے کہ ان اسکولوں کا مقصد نہ صرف مفت تعلیم فراہم کرنا ہے بلکہ بچوں کو سماجوادی نظریات اور اس کے ’’عظیم شخصیات‘‘ سے بھی متعارف کروانا ہے۔ ان کے مطابق ’’جیسے کانونٹ اسکول اپنا نصاب رکھتے ہیں، ویسے ہی ہماری پی ڈی اے پاٹھ شالہ بھی ہے۔‘‘

پولیس نے گڈا پر گروہی منافرت کو فروغ دینے کی دفعہ 353(2) بی این ایس کے تحت اور دلت و قبائلی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ اس معاملے سے ملتا جلتا ایک اور واقعہ کانپور کے ایک گاؤں میں پیش آیا، جہاں سماجوادی رہنما رچنا سنگھ گوتم پر سرکاری اسکول کے باہر غیر منظور شدہ پاٹھ شالہ چلانے اور بچوں کو سیاسی نظریات سکھانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ سماجوادی پارٹی نے یہ اسکول حکومت کی پرائمری اسکولوں کے انضمام کی پالیسی کے خلاف احتجاج کے طور پر شروع کیے تھے، یہ الزام لگاتے ہوئے کہ یہ پالیسی غریب اور دیہی بچوں کی تعلیم کو متاثر کر سکتی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read