اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی۔ (فائل فوٹو)
بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت والی اتراکھنڈ حکومت نے اتوار کے روز ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے اتراکھنڈ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ ایکٹ 2016 کو منسوخ کرنے کا بل منظور کر لیا ہے۔ اس ساتھ ہی سکھ، جین، بدھ، عیسائی اور پارسی برادریوں کے زیر انتظام تعلیمی اداروں کو اقلیتی حیثیت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ پشکر سنگھ دھامی کی صدارت میں ہونے والے کابینہ اجلاس میں ’’اتراکھنڈ اقلیتی تعلیمی ادارہ جات بل 2025‘‘ کو منظوری دی گئی، جو منگل سے شروع ہونے والے اسمبلی اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔ اس بل کی منظوری کی صورت میں ’’اتراکھنڈ نان گورنمنٹ عربی و فارسی مدرسہ ضوابط 2019‘‘ بھی منسوخ ہو جائیں گے۔ ان ضوابط کے تحت مدرسہ بورڈ کو نصاب سازی، امتحانات کے انعقاد، مدرسوں کی جانچ اور منظوری دینے کے اختیارات حاصل تھے۔
کابینہ کے ذریعے منظور شدہ اس بل کے تحت تمام اقلیتی اداروں کو ایک مرکزی ریگولیٹری اتھارٹی کے تحت لانے کی تجویز دی گئی ہے، جس سے اداروں کو اقلیتی درجہ حاصل کرنے کے لیے اتھارٹی کی منظوری لازمی ہو گی۔ یہ اتھارٹی نصاب کی منظوری اور تعلیمی معیار کو بورڈ آف اسکول ایجوکیشن کے مطابق بنانے کی ذمہ دار ہو گی۔ واضح رہے کہ ریاست میں اس وقت 452 تسلیم شدہ مدرسے موجود ہیں۔ تاہم مارچ میں حکومت نے 136 مدرسوں کو اس بنا پر بند کر دیا تھا کہ وہ تعلیمی محکمہ یا مدرسہ بورڈ کے ساتھ رجسٹرڈ نہیں تھے۔
رپورٹس کے مطابق اتراکھنڈ حکومت نے ریاست کے مختلف علاقوں، خصوصاً اترپردیش کی سرحد سے متصل علاقوں میں موجود غیر رجسٹرڈ مدرسوں کو ’’سیکیورٹی رسک‘‘ قرار دیا ہے۔ گزشتہ برس فروری میں ہلدوانی میں عدالت میں زیر سماعت معاملے کے باوجود حکومت نے ایک مسجد اور مدرسے کو ’’سرکاری زمین پر غیر قانونی تعمیر‘‘ قرار دے کر منہدم کر دیا تھا، جس کے بعد شدید پرتشدد مظاہرے ہوئے اور 6 افراد جاں بحق ہوئے۔ پولیس نے مسلم رہائشیوں کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے متعدد افراد کو حراست میں لیا اور ان علاقوں کو سیل کر دیا۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

