Bharat Express DD Free Dish

Cabinet

وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں مرکزی کابینہ کی اقتصادی امور کی کمیٹی نے بدھ کے روز وزارتِ ریلوے کی تقریباً 9,450 کروڑ روپے کی مجموعی لاگت والی چار ریلوے پروجیکٹس کو منظوری دے دی ہے۔

مرکزی حکومت میں ممکنہ کابینہ رد و بدل کے تحت نتن گڈکری، نرملا سیتھا رمن، ہردیپ سنگھ پوری اور منوہر لال کھٹر سمیت کئی وزراء کے محکمے تبدیل کیے جا سکتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق نرملا سیتھا رمن کی جگہ سابق آر بی آئی گورنر شکتی کانت داس کو موقع مل سکتا ہے۔ اسی طرح عام آدمی پارٹی چھوڑ کر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) میں شامل ہونے والے راگھو چڈھا کو بھی مرکزی کابینہ میں اہم وزارت دیے جانے کی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔

وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں بدھ کو منعقدہ مرکزی کابینہ کی میٹنگ میں کئی اہم فیصلے کیے گئے۔ ان فیصلوں میں کسانوں کے مفاد، صاف توانائی کی ترقی اور شہری بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے پر خصوصی زور دیا گیا۔

مرکزی وزیر اور ہندستانی عوام مورچہ (سیکولر) کے سرپرست جیتن رام مانجھی (Jeetan Ram Manjhi) نے آئندہ راجیہ سبھا انتخابات میں اپنی پارٹی کے لیے ایک نشست کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2024 میں جس راجیہ سبھا سیٹ کا وعدہ کیا گیا تھا، وہ ابھی بھی واجب الادا ہے۔

وزیر اعظم مودی کی صدارت میں مرکزی کابینہ نے جمعہ کو بھارت اور عمان کے درمیان تجویز کردہ فری ٹریڈ ایگریمنٹ (ایف ٹی اے) کو منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانا اور باہمی اقتصادی تعاون کو فروغ دینا ہے۔

ان دونوں منصوبوں سے نہ صرف علاقائی معیشت کو رفتار ملے گی بلکہ روزگار، ٹرانسپورٹ، اور لاجسٹک کے شعبوں میں دیرپا بہتری کی امید ہے۔

اتراکھنڈ حکومت نے ریاست کے مختلف علاقوں، خصوصاً اترپردیش کی سرحد سے متصل علاقوں میں موجود غیر رجسٹرڈ مدرسوں کو ’’سیکیورٹی رسک‘‘ قرار دیا ہے۔

وزیراعظم نریندر مودی نے ان فیصلوں کو عوام کے لیے ایک بڑی پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان سے کسانوں، خواتین، اور پسماندہ علاقوں کے لوگوں کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔ انہوں نے اپنے بیان میں زور دیا کہ ان کی حکومت "سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس" کے عظیم مقصد کے ساتھ مسلسل کام کر رہی ہے۔

ملک کی پائیدار اور جامع ترقی کا انحصار بڑی حد تک تکنیکی ترقی پر ہے، جس کے لیے تعلیمی اور تحقیقی معیار کو مسلسل بہتر بنانے کی کوششیں ضروری ہیں۔ تحقیق، اختراع کو فروغ دیتی ہے جو جدید دور کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بنیادی حیثیت کی حامل ہے اور دیرپا مثبت اثرات مرتب کرتی ہے۔

اے بی پی ایم-جے اے وائی دنیا کی سب سے بڑی پبلک فنڈڈ ہیلتھ انشورنس اسکیم ہے جو 12.34 کروڑ خاندانوں کے مساوی 55 کروڑ افراد کو ثانوی اور تیسرے درجے کی نگہداشت کے اسپتال میں داخل ہونے کے لیے فی خاندان 5 لاکھ روپے کا ہیلتھ کور فراہم کرتی ہے۔