دنیا بھر کے سائنس دان اور انجینئر بڑی بڑی عمارتیں اور ٹاور تعمیر کرنے کی نئی نئی تکنیکیں تلاش کرتے ہیں، لیکن بہار کے چوروں نے ’’بغیر شور مچائے‘‘ 132 فٹ اونچے لوہے کے ایک دیو ہیکل ٹاور کو غائب کرنے کا ایسا دیسی طریقہ ایجاد کر لیا ہے کہ ناسا (NASA) کے ماہرین بھی تحقیق کے لیے بکسر کا رخ کر سکتے ہیں۔ جی ہاں، بہار کے ضلع بکسر سے چوری کا ایک ایسا حیران کن اور نایاب معاملہ سامنے آیا ہے، جس نے پولیس سے لے کر عام لوگوں تک سب کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ چوروں نے کسی دکان یا مکان کو نشانہ بنانے کے بجائے ڈمراؤں نگر تھانہ علاقے سے پورا کا پورا موبائل ٹاور ہی چرا لیا۔
چوروں نے کئی دن تک چلائی ’انجینئرنگ کلاس‘
اس واقعے کی سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ 132 فٹ اونچا یہ دیوہیکل ڈھانچہ کسی سنسان مقام پر نہیں بلکہ بکسر کے ایک گنجان آبادی والے علاقے میں نصب تھا۔ چور کئی دنوں تک سکون سے ٹاور کا ایک ایک نٹ بولٹ کھولتے رہے، اس کے بھاری لوہے کے پرزے، قیمتی کیبلیں، اینٹینا اور جنریٹر تک ٹرکوں میں لاد کر لے گئے، لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ محلے کے کسی شخص کو اس کی خبر تک نہ ہو سکی۔
کمپنی کے اہلکار نیٹ ورک ٹھیک کرنے پہنچے تو حیران رہ گئے
یہ عجیب و غریب واقعہ اس وقت سامنے آیا جب جی ٹی ایل (GTL) کمپنی کے افسران اور انجینئرز کئی برسوں سے بند پڑے اس ٹاور کی مرمت اور معائنہ کرنے کے لیے موقع پر پہنچے۔ مقررہ مقام پر جا کر انہوں نے جب آسمان کی طرف دیکھا تو وہاں ٹاور کے بجائے صرف خالی آسمان نظر آیا۔ زمین پر نہ کوئی جنریٹر تھا اور نہ ہی کوئی کیبل۔ چور اتنی صفائی سے ہاتھ صاف کر گئے تھے کہ وہاں ایک کیل تک باقی نہیں بچی تھی۔ کمپنی کے اہلکار یہ منظر دیکھ کر دنگ رہ گئے اور فوراً تھانے پہنچ کر اس ’’عظیم چوری‘‘ کی شکایت درج کرائی۔
پولیس سی سی ٹی وی میں چوروں کا ’نیٹ ورک‘ تلاش کر رہی ہے
اس پورے واقعے کا سب سے بڑا طنزیہ پہلو یہ ہے کہ جہاں سے 132 فٹ اونچا ٹاور چرایا گیا، وہاں سے ڈمراؤں نگر تھانہ محض چند قدم کے فاصلے پر واقع ہے۔ اب پولیس اس بات پر حیران ہے کہ آخر اتنا بڑا ڈھانچہ بغیر کسی شور شرابے اور بھاری مشینری کے کیسے غائب ہو گیا۔پولیس علاقے کے سی سی ٹی وی فوٹیج کھنگال رہی ہے اور مشتبہ افراد کی تلاش جاری ہے۔ ادھر مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ جب چور تھانے کے قریب سے 132 فٹ اونچا ٹاور ہی لے جا سکتے ہیں تو پھر عام گھروں کی حفاظت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ عجیب و غریب واقعہ اب سوشل میڈیا پر ’’بہار کا آٹھواں عجوبہ‘‘ قرار دے کر خوب زیرِ بحث ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



