تحریر: چاروی اروڑا
اہم بحری گزرگاہوں اور تجارتی راستوں سے لے کر آفات سے نمٹنے تک، ہند۔بحرالکاہل عالمی سلامتی اور استحکام کے مرکز میں واقع ہے۔ امریکہ کے لیے اس وسیع خطے میں مؤثر انداز میں کام کرنے کے لیے مسلسل تیاری، مضبوط ہم آہنگی، اور متنازع ماحول میں فوری ردعمل کی صلاحیت ضروری ہے۔
ریاست ہوائی کے ہِکَم ایئر فورس بیس میں واقع پیسیفک ایئر فورسز، امریکی فضائیہ کی ایک اہم کمان ہے اور یو ایس انڈو۔پیسیفک کمان (یو ایس انڈو پیکوم )کے فضائی حصے کے طور پر کام کرتی ہے۔اس کا بنیادی مقصد جارحیت کو روکنا اور ایک آزاد اور کھلے ہند۔بحرالکاہل کو یقینی بنانا ہے۔ یہ اپنے مشن کو ’’طاقت کے ذریعے امن‘‘ کی حکمت عملی کے تحت آگے بڑھاتا ہے، جو قابلِ اعتماد، جنگ کے لیے تیار فضائی قوت اور مضبوط اتحادیوں و شراکت داریوں پر مبنی ہے۔
ان کوششوں میں ہندوستان ایک اہم شراکت دار ہے، کیونکہ امریکہ اور ہندوستان مشقوں، منصوبہ بندی اور عملی ہم آہنگی کے ذریعے اپنے تعاون کو مسلسل وسعت دے رہے ہیں۔ دوطرفہ دفاعی تجارت اور ہندوستان کے ساتھ مشترکہ تربیت نے اس بڑھتی ہوئی باہمی ہم آہنگی میں براہ راست کردار ادا کیا ہے۔
پی اے سی اے ایف کے کمانڈر جنرل کیون شنائیڈر زور دے کر کہتے ہیں ’’ ہندوستان اور امریکہ کے درمیان دو طرفہ دفاعی تجارت میں اضافہ باہمی مطابقت میں اضافے کے ساتھ ہم آہنگ رہا ہے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں ’’ ہماری شراکت داری کی اہمیت لگاتار بڑھ رہی ہے ، خاص کر ایسے وقت میں جب ہم ہند۔ بحرالکاہل خطے میں ایک بڑھتے ہوئے پیچیدہ اور متحرک سلامتی ماحول کا سامنا کررہے ہیں۔ ‘‘
ارتقا پذیر عملی چیلنج
جیسے جیسے ہند۔بحرالکاہل خطہ ایک کثیرالجہتی جغرافیائی و سیاسی ماحول کا سامنا کر رہا ہے، متنازع علاقوں میں کمان، کنٹرول اور ترسیل و رسد کے نظام کو مضبوط بنانا ایک ترجیحی امر بن گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے عملی لائحۂ عمل کو چابک دست جنگی تعیناتی کے تصور کے تحت ڈھالا جا رہا ہے، جس کا مقصد افواج کو منتشر کرنا، بقا پذیری میں اضافہ کرنا اور طویل فاصلوں پر کارروائی کی رفتار کو برقرار رکھنا ہے۔ اس حکمتِ عملی کے تحت ضروری سامان اور وسائل کو پیشگی مختلف مقامات پر رکھا جاتا ہے، اور افواج چھوٹے، باہم مربوط مگر جغرافیائی طور پر منتشر مراکز سے کارروائیاں کرتی ہیں، تاکہ تیزی اور بڑے پیمانے پر مؤثر آپریشن ممکن ہو سکیں۔
ہندوستانی فضائیہ جیسے شراکت داروں کے ساتھ تعاون اس موافق عملی حکمت عملی کی براہ راست حمایت کرتا ہے، جس میں مضبوط شراکت داری کا انضمام، معلومات کے تبادلے میں اضافہ اور باہمی ہم آہنگی کی جانچ شامل ہے۔ مشقوں کو اس طرح ترتیب دیا جاتا ہے کہ اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ جنگی کارروائی اور بحران کے ردعمل کے تصورات کو جانچا اور بہتر بنایا جا سکے تاکہ وہ ایک متحد قوت کے طور پر کام کر سکیں۔ شنائیڈر کے مطابق : یہ تعلق وقت کے ساتھ نمایاں طور پر پختہ ہوا ہے ۔ وہ کہتے ہیں ’’
ہمارے باہمی کام کرنے کی صلاحیت بنیادی ہم آہنگی سے ترقی کرتے ہوئے پیچیدہ حالات میں اعلیٰ سطح کی باہمی ہم آہنگی تک پہنچ گئی ہے۔‘‘
نقل و حرکت اور تیز رفتار موافقت کے اس طریقۂ کار کو حال ہی میں بڑے پیمانے کی مشق ’ریزولوٹ فورس پیسفک‘(ریفور پَیک) میں آزمایا گیا، جس میں 400 سے زائد طیارے اور 12,000 سے زیادہ اہلکار 50 مقامات پر جمع ہوئے، تاکہ ہند۔ بحرالکاہل خطے میں بڑے پیمانے پر کاروائی کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا جا سکے۔
اسی طرح ہندوستان کے ساتھ مشترکہ سرگرمیاں جیسے’ ٹائیگر ٹرائمف‘ بھی ان مشترکہ صلاحیتوں کی ترقی پر خاص توجہ دیتی ہیں جو خاص کر ترسیل و رسد کا نظام ، انسانی امداد اور آفات سے نمٹنے کے لیے مشکل حالات میں تیار کی جاتی ہیں۔
سائبر اور خلائی شعبوں کا انضمام
فضائی کاروائیاں اب تیزی کے ساتھ سائبر اور خلائی صلاحیتوں کے ساتھ منسلک ہو رہی ہیں۔ امریکہ اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر تربیت، مشقوں اور منصوبہ بندی کے ذریعہ کاروائیوں کے انضمام کو مزید گہرائی اور گیرائی عطا کرنے پر کام کررہا ہے تاکہ ان شعبوں میں ابھرتے ہوئے چیلنجوں سے نمٹا جا سکے۔ تمام شراکت داریوں کا مقصد بلا رکاوٹ کاروائی انجام دینا ہے۔ یہ ہدف وسیع تر امریکہ۔ ہند اہم دفاعی شراکت داری کی عکّاسی کرتا ہے جس میں معلومات کے تبادلے میں اضافہ ، علاقائی سلامتی میں تعاون اور ان اہم نئے شعبوں میں گہرا اشتراک شامل ہے۔
فوری ردِعمل
اسٹریٹجک فضائی نقل و حرکت ہند ۔ بحرالکاہل خطے کے وسیع فاصلوں پر سلامتی سے متعلق کاروائیوں اور انسانی سرگرمیوں کے حمایت کے لیے بدستور مرکزی اہمیت رکھتی ہے۔ حالیہ مشقوں میں ثابت ہونے کے مطابق ، سینکڑوں طیّاروں اور ہزاروں اہلکاروں کی تعیناتی کی صلاحیت فوری رد عمل کے لیے نہایت اہم ہے۔
مستقبل پر نظر
یہ نقطۂ نظر اس حقیقت کی عکاسی بھی کرتا ہے کہ اتحادیوں اور شراکت داروں کا نیٹ ورک امریکہ کے اہم ترین اسٹریٹجک اثاثوں میں سے ایک ہے، جو علاقائی سلامتی کے لیے مشترکہ ذمہ داری کو فروغ دیتا ہے۔
کواڈ (جس میں امریکہ،ہندوستان ، جاپان اور آسٹریلیا شامل ہیں) اہم اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیوں کے حوالے سے اس نوعیت کے تعاون کے لیے ایک کلیدی پلیٹ فارم کے طور پر کام کرتا ہے، اور اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ ہندوستان جیسے شراکت دار بدلتے ہوئے حربی ماحول میں مؤثر طور پر شامل ہوں۔
آئندہ کا منظر نامہ
مستقبل کی جانب دیکھتے ہوئے، سب سے بڑے مواقع اس بات میں پوشیدہ ہیں کہ اسٹریٹجک شراکت داریوں کو مزید مضبوط بنایا جائے تاکہ استحکام کو فروغ دیا جا سکے، خواہ وہ دو طرفہ سطح پر ہو یا کواڈ جیسے علاقائی گروپس کے ذریعے۔امید ہے کہ مستقبل کا تعاون ابھرتے ہوئے شعبوں، ٹیکنالوجی، اور علاقائی سلامتی پر مرکوز ہوگا، جب کہ ہند۔ بحرالکاہل خطے میں حکمت عملی اور عملی سطح پر ہم آہنگی مسلسل مضبوط ہو رہی ہے۔
ایک آزاد اور کھلے ہند۔ بحرالکاہل خطے کی بنیاد ہماری اسٹریٹجک شراکت داریوں کی مضبوطی پر قائم ہے۔ شنائیڈر کہتے ہیں ’’ ہندوستان میں ہمیں ایک ایسا شراکت دار ملا ہے جس کی مشترکہ اقدار اور نقطہ نظر علاقائی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ہمارے مشترکہ عزم کو یقینی بناتےہیں۔ ‘‘
بشکریہ اسپَین میگزین، امریکی سفارت خانہ، نئی دہلی
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔