Bharat Express DD Free Dish

Budget 2026: بڑے اصلاحاتی اقدامات کے آثار؟ دفاع سے لے کر صحت، انفراسٹرکچر اور ٹیکس ریلیف تک سب کی نظریں مرکزی بجٹ پر

ہیلتھ کیئر، دفاع، رئیل اسٹیٹ اور انفراسٹرکچر میں بڑے اعلانات کی امید۔ مرکزی بجٹ 2026 سے عوام اور صنعت کو بڑی توقعات وابستہ ہیں۔ اگر حکومت متوازن اور دور اندیش فیصلے کرتی ہے تو یہ بجٹ مڈل کلاس کے لیے راحت، صنعت کے لیے حوصلہ افزائی اور ملک کی معیشت کے لیے نئی توانائی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ اب سب کی نظریں یکم فروری پر ٹکی ہیں۔

نئی دہلی: مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن یکم فروری کو مرکزی بجٹ 2026 پیش کریں گی، جس پر ملک بھر میں عام عوام سے لے کر کاروباری طبقے، سرمایہ کاروں اور ماہرین اقتصادیات تک سب کی نظریں مرکوز ہیں۔ بجٹ 2026 کو لے کر توقع کی جا رہی ہے کہ حکومت بڑے اصلاحاتی اقدامات کا اعلان کر سکتی ہے، جن کا مقصد معیشت کو نئی رفتار دینا، سرمایہ کاری میں اضافہ کرنا اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہوگا۔ ماہرین کے مطابق اس بجٹ میں ہیلتھ کیئر، دفاع، انفراسٹرکچر، رئیل اسٹیٹ اور انکم ٹیکس سے متعلق بڑے فیصلے متوقع ہیں۔ اگر حکومت ٹیکس میں راحت کے ساتھ ساتھ کھپت اور سرمایہ کاری کو بڑھانے والے اقدامات کرتی ہے تو اس سے معاشی ترقی کو مضبوط سہارا مل سکتا ہے۔

ہیلتھ کیئر سیکٹر پر خاص توجہ

بجٹ 2026 میں ہیلتھ کیئر سیکٹر کے لیے سرکاری اخراجات میں نمایاں اضافے کی امید کی جا رہی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ سرکاری اسپتالوں کی بہتری، دیہی علاقوں میں طبی سہولیات کی توسیع، میڈیکل ایجوکیشن اور ہیلتھ انفراسٹرکچر پر سرمایہ کاری کو ترجیح دی جا سکتی ہے۔ کورونا کے بعد صحت کے شعبے کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے، اسی لیے توقع ہے کہ حکومت نئے اسپتالوں، جدید آلات، ٹیلی میڈیسن اور ہیلتھ انشورنس اسکیموں کے لیے بڑے اعلانات کر سکتی ہے، جس سے نہ صرف عوام کو بہتر سہولیات ملیں گی بلکہ اس شعبے میں روزگار کے مواقع بھی بڑھیں گے۔

دفاعی شعبہ: خود کفالت پر زور

بجٹ 2026 میں دفاعی شعبے پر خصوصی توجہ دیے جانے کی بھی امید ہے۔ ماہرین کے مطابق حکومت مقامی دفاعی پیداوار کو فروغ دینے کے لیے بڑے اقدامات کا اعلان کر سکتی ہے۔ مارکیٹ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دفاعی بجٹ میں 8 سے 10 فیصد تک اضافے کا امکان ہے، تاہم سرمایہ کاروں کی نظر صرف بجٹ بڑھانے پر نہیں بلکہ آرڈرز کو جلد حتمی شکل دینے اور دفاعی خریداری کے عمل کو شفاف اور تیز بنانے پر بھی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اگر دفاعی صنعت کو سبسڈی اور حکومتی تعاون میں اضافہ کیا جائے تو نئی ٹیکنالوجی کو فروغ، ہنر مند روزگار کی تخلیق اور درآمدات پر انحصار میں کمی ممکن ہو سکے گی۔

انفراسٹرکچر اور رئیل اسٹیٹ: نئی رفتار کی امید

بجٹ میں انفراسٹرکچر پروجیکٹس کو نئی رفتار دینے کی بھی توقع کی جا رہی ہے۔ سڑکوں، ریلوے، ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور لاجسٹکس پر سرمایہ کاری سے نہ صرف کنیکٹیویٹی بہتر ہوگی بلکہ صنعت اور تجارت کو بھی فروغ ملے گا۔ اسی طرح رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو بھی سستی شرح سود، ٹیکس میں رعایت اور افورڈیبل ہاؤسنگ سے متعلق بڑے اعلانات کی امید ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر حکومت ہاؤسنگ سیکٹر کو فروغ دیتی ہے تو مکانوں کی طلب میں اضافہ ہوگا، جس سے تعمیراتی صنعت کو فائدہ پہنچے گا اور بڑے پیمانے پر روزگار پیدا ہوگا۔

انکم ٹیکس میں راحت: مڈل کلاس کی سب سے بڑی امید

بجٹ 2026 سے مڈل کلاس کو سب سے زیادہ امیدیں انکم ٹیکس میں راحت سے وابستہ ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ حکومت ٹیکس سلیب میں نرمی، اسٹینڈرڈ ڈیڈکشن میں اضافہ اور نئے ٹیکس نظام کو مزید پرکشش بنانے کے لیے اقدامات کر سکتی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر مڈل کلاس کے ہاتھ میں زیادہ پیسہ آئے گا تو کھپت بڑھے گی، جس سے بازار میں مانگ میں اضافہ ہوگا اور معیشت کو تقویت ملے گی۔

بجٹ سے قبل مختلف طبقات کی آرا

بھارتیہ اسٹیٹ بینک کے چیئرمین سی ایس شیٹی نے کہا ہے کہ اگرچہ ٹیکس میں بڑی چھوٹ کی گنجائش محدود ہے، تاہم حکومت مالی نظم و ضبط (Fiscal Discipline) کو برقرار رکھتے ہوئے ترقی کو فروغ دینے والے اقدامات کرے گی۔ انہوں نے یہ بھی تجویز دی کہ فکسڈ ڈپازٹ (FD) اور شیئر بازار سے ہونے والی آمدنی پر یکساں ٹیکس عائد ہونا چاہیے تاکہ سرمایہ کاری کے شعبوں میں توازن قائم ہو۔ ادھر، بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ اتُل گرگ نے کہا کہ پارٹی کی سوچ پنڈت دین دیال اپادھیائے کے نظریات سے متاثر ہے، جس میں سماج کے سب سے کمزور طبقات کو بااختیار بنانا اولین ترجیح ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ دس برسوں کے بجٹ اسی سمت میں رہے ہیں اور بجٹ 2026 بھی اسی سلسلے کی ایک مضبوط کڑی ہوگا۔

شیئر بازار اتوار کو بھی کھلا رہے گا

قابل ذکر ہے کہ بجٹ کے دن یکم فروری (اتوار) ہونے کے باوجود بی ایس ای اور این ایس ای میں معمول کے مطابق ٹریڈنگ ہوگی۔ یہ فیصلہ اس لیے کیا گیا ہے تاکہ بجٹ اعلانات پر بازار کی فوری ردعمل کو یقینی بنایا جا سکے۔ ماہرین اقتصادیات اور صنعتی حلقوں کا ماننا ہے کہ بجٹ 2026 ملک کی معیشت کے لیے نیا موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ ہیلتھ کیئر، دفاع، انفراسٹرکچر اور ٹیکس اصلاحات پر توجہ کے ذریعے حکومت نہ صرف سرمایہ کاری اور روزگار کو فروغ دے سکتی ہے بلکہ بھارت کی ترقی کی رفتار کو بھی مزید مضبوط بنا سکتی ہے۔

مرکزی بجٹ 2026 سے عوام اور صنعت کو بڑی توقعات وابستہ ہیں۔ اگر حکومت متوازن اور دور اندیش فیصلے کرتی ہے تو یہ بجٹ مڈل کلاس کے لیے راحت، صنعت کے لیے حوصلہ افزائی اور ملک کی معیشت کے لیے نئی توانائی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ اب سب کی نظریں یکم فروری پر ٹکی ہیں، جب یہ واضح ہو جائے گا کہ بجٹ 2026 واقعی بڑے اصلاحاتی اقدامات کا پیامبر بنتا ہے یا نہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read