ایمان اور فرض کی راہ پر چلنے والوں کے لیے کوئی چیلنج بڑا نہیں ہوتا۔ یہ بات حال ہی میں بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ منوج تیواری نے اپنی کانوڑ یاترا کے ذریعے ثابت کی ہے۔ پیدل سفر کے دوران ان کے پاؤں میں چھالے پڑ گئے، لیکن بابا ویدیا ناتھ پر ان کے گہرے ایمان اور اپنے پارلیمانی فرض سے وابستگی نے انھیں رُکنے نہیں دیا۔ ایک طرف انھوں نے ایک سچے عقیدت مند کی طرح سلطان گنج سے دیوگھر تک کانوڑ یاترا مکمل کی۔ دوسری جانب سفر مکمل ہوتے ہی عوام کے لیے اپنا فرض ادا کرنے پارلیمنٹ پہنچ گئے۔
’دھرم‘ اور ’کرم‘ ایک ساتھ
ٹانگوں میں درد کے باوجود منوج تیواری 4 اگست کو پارلیمنٹ پہنچے۔ ٹرائی سائیکل کی مدد سے ان کا پارلیمنٹ سے باہر آنا اور پھر خود ہی سیڑھیاں اترنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ ایک ایسے لیڈر ہیں جو دھرم اور کرم دونوں کو ایک ہی لگن سے انجام دیتے ہیں۔ یہ صرف ایک سفر نہیں تھا بلکہ عوام کے درمیان جانے، ان کے مسائل کو سمجھنے اور انھیں پارلیمنٹ تک پہنچانے کا ان کا غیر متزلزل عزم تھا۔
واضح رہے کہ منوج تیواری نے سلطان گنج سے بابا بیدیا ناتھ دھام تک پیدل کانوڑ یاترا کی۔ کچھ فاصلے کے لیے گوڈا کے ایم پی نشی کانت دوبے بھی ان کے ساتھ شامل ہوئے اور تقریباً 15 کلومیٹر پیدل سفر کیا۔ منوج تیواری نے 31 جولائی کو سلطان گنج میں گنگا کا پانی لے کر اپنی کانوڑ یاترا شروع کی تھی۔ اس کے بعد وہ بابا دھام پہنچے اور جل ابھیشیک کیا۔
کانوڑ یاترا میں بھی سنے عوام کے مسائل
منوج تیواری نے کہا کہ کانوڑیوں کے مسائل کو سمجھنے کے لیے خود کانوڑ یاترا کرنا ضروری ہے۔ انھوں نے کہا یہ یاترا نہ صرف ایمان کی علامت ہے بلکہ کانوڑیوں کو درپیش چیلنجوں کو سمجھنے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔ لہٰذا منوج تیواری کی یہ کانوڑ یاترا محض ایک مذہبی رسم ہی نہیں تھی، بلکہ پیروں میں چھالے ہونے کے باوجود ان کا پارلیمنٹ میں پہنچنا ظاہر کرتا ہے کہ وہ عوامی نمائندے کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریوں کو کتنی سنجیدگی سے لیتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


