Bharat Express DD Free Dish

Kanwar Yatra

عمران مسعود نے کہا کہ مذہبی عقیدے اور باہمی بھائی چارے کا احترام کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سہارنپور کی گنگا جمنی تہذیب کو مضبوط بنائے رکھنا سب کی ذمہ داری ہے۔ کانوڑیوں کی خدمت کے دوران عمران مسعود شیوبھکتوں کے ساتھ بھگوان شیو کی عقیدت میں رنگے ہوئے نظر آئے۔

منوج تیواری نے سلطان گنج سے بابا بیدیا ناتھ دھام تک پیدل کانوڑ یاترا کی۔ کچھ فاصلے کے لیے گوڈا کے ایم پی نشی کانت دوبے بھی ان کے ساتھ شامل ہوئے۔

وہیں منوج تیواری نے اسے ایک کٹھن تپسیا بتایا اور لکھا کہ ’’سلطان گنج سے دیوگھر تک پیدل پانی لے جانا ایک بڑی تپسیا ہے۔‘‘

اترپردیش اوراتراکھنڈ حکومت کوسپریم کورٹ نے کانوڑ یاترا کے دوران ڈھابوں پرکیوآرکوڈ لازمی قراردینے کے حکم پر راحت دی ہے۔ عدالت نے تسلیم کیا کہ یاترا اختتام پرہے اورڈھابہ مالک قانونی دفعات پر عمل کریں گے۔ درخواست گزاروں نے الزام لگایا تھا کہ یہ حکم مذہبی امتیاز کو فروغ دیتا ہے اور سپریم کورٹ کے گزشتہ سال کے حکم کی خلاف ورزی ہے۔

ضلع مجسٹریٹ وی کے سنگھ نے بتایا کہ کانوڑ یاترا کے دوران میرٹھ ضلع میں یاترا کے راستوں کو بند کرنا پڑتا ہے۔ بچوں اور ان کے والدین کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے۔ اسی لیے گزشتہ برسوں کی طرح اس سال بھی تمام تعلیمی ادارے 16 سے 23 جولائی تک بند رہیں گے۔

ایس پی لیڈر نے مطالبہ کیا کہ حکومت کو اس مسئلہ پر بھی ایسا ہی رویہ اپنانا چاہئے۔ انہوں نے کہا، ’’اگر مذہبی عقیدے کا احترام کرنا ہے، تو دونوں قسم کی دکانوں پر یکساں اصول لاگو ہوں۔ صرف نان ویج دکانوں کو بند کرنا اور شراب کی فروخت جاری رکھنا عقل مندی نہیں ہے۔‘‘

دہلی پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ متاثرہ سڑکوں سے گریز کریں، خاص طور پر رش کے اوقات میں اور ٹریفک پولیس کی ہدایات پر عمل کریں۔

سوامی یشویرمہاراج کا ایک اورمتنازعہ بیان سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے دارالعلوم دیوبند سے کانوڑ بنانے والے مسلمانوں کے خلاف فتویٰ جاری کرنے کی اپیل کی ہے۔ ساتھ ہی ہری دوار سے اس بار کانوڑ نہ خریدنے کی اپیل کی ہے کیونکہ وہاں مسلم طبقے کے لئے 90 فیصد کانوڑبنا رہے ہیں۔

کانوڑ یاتریوں اور ان کی عقیدت کا جتنا احترام یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت میں ہو رہا ہے اتنا اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا: آچاریہ پرمود کرشنم

سلطان گنج کے محمد ظفیر 15 سال سے یہاں درزی کا کام کر رہے ہیں اور ایک دکان بھی چلاتے ہیں۔ انہوں نے کبھی کوئی امتیاز نہیں دیکھا۔ کانوڑیاں آتے ہیں اور سامان خرید کر لے جاتے ہیں۔