جموں و کشمیر کے پہلگام میں 22 اپریل کو ہوئے دہشت گردانہ حملے کے تناظر میں کانگریس نے وزیر اعظم نریندرمودی کو نشانہ بنایا ہے۔ کانگریس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر ایک پوسٹر شیئر کیا، جس میں پی ایم مودی کا سر اور ہاتھ پیر غائب نظر آئے۔ پوسٹ کو شیئر کرتے ہوئے کانگریس پارٹی نے لکھا، ’’ذمہ داری کے وقت غائب‘‘۔ بی جے پی نے پوسٹر شیئر کرنے پر کانگریس پر جوابی حملہ کیا ہے۔ بی جے پی کے سینئر لیڈر گجیندر سنگھ شیخاوت نے پوسٹر پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے:
’’غائب‘‘ یہی تو وہ چاہتے ہیں کہ مودی جی ہوتے۔
کیونکہ ان کے بارے میں سوچنا ہی ان کے شیطانی ارادوں اور مذموم وجود کے لیے خطرہ ہے۔‘‘
گجیندر سنگھ شیخاوت نے اپنے ٹوئیٹ میں کانگریس پر نشانہ سادھا ہے۔ انہوں نے اپنے ٹوئیٹ میں INC کو ٹیگ کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس کی خواہش یہی ہے کہ کاش مودی جی نہ ہوتے۔ کیونکہ ان کا صرف ہونا ہی کانگریس کے بیہودہ ارادوں اور مذموم وجود کے لیے نہایت خطرناک ہے۔
“Gayab” is what they wish Modi ji was.
For the very thought of him threatens their vicious intentions and villainous existence.@INCIndia
— Gajendra Singh Shekhawat (@gssjodhpur) April 29, 2025
اس سے قبل بی جے پی کے ترجمان گورو بھاٹیہ نے پوسٹر پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’کانگریس والے اس چٹان کو توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو کہ ملک کا وزیر اعظم ہے۔ جہاں راہل گاندھی کی مرضی کے بغیر کوئی پتہ نہیں ہلتا، راہل گاندھی کے کہنے پر پوسٹس بنتی ہیں، جس سے ملک کو نقصان ہوتا ہے۔ ان کی کوشش ہے کہ اس اہم وقت میں بھارت کو کمزور کیا جائے اور کانگریس پاکستان کو اشارہ دے رہی ہے۔ ہم اس طاقت کو مٹی میں ملا دیں گے جس نے بھی ہماری طرف دیکھنے کی کوشش کی۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’دنیا بھر میں بسنے والے ہندوستانی نژاد لوگ پاکستانی ہائی کمیشن کے باہر احتجاج کر رہے ہیں، پاکستان کی نیت اور مقصد کبھی پورا نہیں ہوگا، پاکستانی ہائی کمیشن کے ایک افسر نے سر کو جسم سے جدا کرنے کا اشارہ کیا اور کانگریس ایسی پوسٹیں کرتی ہے، کانگریس کہتی ہے پاکستان، ہم تمہارے ساتھ ہیں۔‘‘
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



