Bharat Express DD Free Dish

Bihar Police Raid: سفید پوش ہوٹل یا ’جسم فروشی‘ کا اڈا؟ بہار پولیس کی چھاپہ ماری میں بڑا انکشاف

بہار پولیس نے ویشالی کے دو ہوٹلوں میں چھاپہ مار کر ایک بڑے سیکس ریکیٹ کا پردہ فاش کیا ہے۔ پولیس نے تین خواتین کو ریسکیو کیا اور ہوٹل مالکان سمیت تین ملزمین نیرج کمار، مکیش ساہنی (ویشالی) اور مہیش مہتو (سارن)کو گرفتار کر لیا ہے۔ وہیں روہتاس میں بھی پولیس نے ریڈ لائٹ علاقے میں دبش دے کر کئی لوگوں کو حراست میں لیا ہے۔

بہار میں پولیس نے غیر اخلاقی سرگرمیوں اور جسم فروشی کے منظم نیٹ ورک کے خلاف بڑا آپریشن شروع کر دیا ہے۔ ویشالی سے لے کر روہتاس تک کی گئی چھاپہ ماریوں نے ان سفید پوش ہوٹل مالکان اور منتظمین کی نیند اڑا دی ہے جو کمروں کی آڑ میں یہ گندا دھندا چلا رہے تھے۔ ویشالی میں تو پولیس نے باقاعدہ جال بچھا کر دو ہوٹلوں پر چھاپہ مارا اور وہاں سے تین خواتین کو اس دلدل سے نکالا۔

ویشالی: ہوٹل کی آڑ میں استحصال کا کھیل

یہ معاملہ ضلع ویشالی کے ویشالی تھانہ علاقہ کا ہے۔ پولیس کو کافی عرصے سے اطلاع مل رہی تھی کہ کھروُنا پوکھر واقع ’ابھیشیک ویشالی ہوٹل‘ اور ’دی رائل کیفے اینڈ ریسٹورنٹ‘ میں کچھ گڑبڑ چل رہی ہے۔ الزام تھا کہ ہوٹل انتظامیہ اور مالکان زیادہ منافع کی خاطر خواتین کا جسمانی استحصال کروا رہے تھے۔ خبر کی تصدیق ہوتے ہی ایس ڈی پی او صدر-02 (لال گنج) کی قیادت میں ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی۔ اس ٹیم میں تھانہ انچارج کے ساتھ خواتین پولیس اہلکاروں کو بھی شامل کیا گیا تاکہ کارروائی کے دوران حساسیت برقرار رہے۔ جیسے ہی پولیس نے ہوٹل میں چھاپہ مارا، وہاں افرا تفری مچ گئی۔ پولیس نے موقع سے تین خواتین کو ریسکیو کیا۔

3 گرفتار، نابالغ بھی تحویل میں

اس معاملے میں پولیس نے سخت کارروائی کرتے ہوئے تین اہم ملزمان کو گرفتار کیا ہے، جن کی شناخت نیرج کمار، مکیش ساہنی (ویشالی) اور مہیش مہتو (سارن) کے طور پر ہوئی ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ اس دھندے میں ایک نابالغ کو بھی شامل کیا گیا تھا، جسے پولیس نے اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔ پولیس نے موقع سے نقد رقم، موبائل فون اور گاہکوں کے اندراج والا رجسٹر بھی ضبط کیا ہے، جو اس غیر قانونی کاروبار کے ٹھوس ثبوت مانے جا رہے ہیں۔

روہتاس میں ’ریڈ لائٹ‘ علاقے پر دھاوا

صرف ویشالی ہی نہیں، روہتاس پولیس بھی ان دنوں پوری طرح ایکشن موڈ میں ہے۔ پولیس نے بیکرم گنج کے ریڈ لائٹ علاقے میں اچانک چھاپہ مارا، جس سے وہاں بھگدڑ مچ گئی۔ ڈھنگائی گاؤں میں کی گئی اس کارروائی کے دوران پولیس نے چھ افراد کو حراست میں لیا ہے۔ایس ڈی پی او سندھو شیکھر سنگھ کے مطابق، حراست میں لی گئی چار خواتین آرکیسٹرا سے وابستہ ہیں۔ ابتدائی جانچ میں سامنے آیا ہے کہ یہ خواتین شادیوں اور سماجی تقریبات میں گانے اور رقص کا کام کرتی ہیں۔ تاہم پولیس ہر زاویے سے معاملے کی تفتیش کر رہی ہے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ کہیں ان کے پیچھے کوئی بڑا ریکیٹ تو سرگرم نہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read