وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو درگاپور ضلع میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی ریلی میں کہا کہ ترنمول کانگریس کی حکومت نے ریاست میں ’’دراندازی کی حوصلہ افزائی‘‘ کرکے بنگال کی شناخت کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ پی ایم مودی نے کہا کہ بنگال میں غیر قانونی تارکین وطن کی حمایت کے لیے ایک ’’پورا ماحولیاتی نظام‘‘ تشکیل دیا گیا ہے۔
وزیر اعظم نے عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’اپنے فائدے کے لیے ٹی ایم سی حکومت نے مغربی بنگال کی شناخت کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ ریاست میں دراندازی کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔ دراندازوں کے لیے جعلی دستاویزات بنائے جا رہے ہیں۔ ایک پورا ماحولیاتی نظام بنا دیا گیا ہے۔ یہ مغربی بنگال اور ملک کے لیے بڑا خطرہ ہے، بنگلہ ثقافت کے لیے خطرہ ہے۔‘‘
پی ایم مودی نے ممتا حکومت پر خوشامد کی سیاست میں تمام حدیں پار کرنے کا الزام بھی لگایا۔ انھوں نے کہا کہ ’’خوشامد کی سیاست کرتے ہوئے ٹی ایم سی تمام حدیں پار کر رہی ہے۔ دراندازوں کے حق میں ایک نئی مہم بھی شروع ہو گئی ہے۔ یہ آئینی اقدار کے لیے ایک چیلنج ہے۔ ٹی ایم سی کھل کر ان کی حمایت کر رہی ہے۔ لیکن میں درگاپور کی سرزمین سے صاف صاف کہہ رہا ہوں کہ جو بھی ہندوستان کا شہری نہیں ہے، جو دراندازی کرکے یہاں آیا ہے، اس کے خلاف مسلسل کارروائی کی جائے گی۔‘‘
وزیر اعظم مودی نے بلند کیا ’’ٹی ایم سی ہٹاؤ، بنگال بچاؤ‘‘ کا نعرہ
’’ٹی ایم سی ہٹاؤ، بنگال بچاؤ‘‘ کا نعرہ بلند کرتے ہوئے وزیر اعظم نے ٹی ایم سی پر ریاست کے تعلیمی نظام پر دوہرا حملہ کرنے کا الزام بھی لگایا۔ انھوں نے کہا کہ ’’چاہے وہ پرائمری تعلیم ہو یا اعلیٰ تعلیم، ہر سطح پر تعلیم برباد ہو رہی ہے۔ ٹی ایم سی حکومت نے بنگال کے تعلیمی نظام کو جرائم اور بدعنوانی کے حوالے کر دیا ہے اور اس پر دوہرا حملہ کیا ہے۔ آج ہزاروں قابل اساتذہ بے روزگار ہیں اور اس کی سب سے بڑی وجہ ٹی ایم سی کی بدعنوانی ہے۔‘‘
دریں اثنا پی ایم مودی نے کانگریس اور بائیں بازو کی جماعت پر بھی بنگلہ زبان اور وراثت کی پرواہ نہ کرنے کا الزام لگایا اور بنگال کی عوام کو یاد دلایا کہ بنگالی کو 2024 میں ’’کلاسیکی زبان‘‘ درجہ دینے والی بی جے پی حکومت ہی ہے۔ اس سے قبل انھوں نے درگاپور میں تقریباً 4500 کروڑ روپے سے زیادہ کے ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کیا اور بنگال کی ترقی کے لیے حکومت کے عزم کو دہرایا۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
