مرکزی وزیر داخلہ امت۔
کولکاتا: مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے منگل کو مغربی بنگال حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کو خاردار باڑ لگانے کے لیے مناسب زمین فراہم نہیں کر رہی۔ امت شاہ نے کہا کہ بنگلہ دیش سے ملنے والی بین الاقوامی سرحد پر دراندازی روکنے کے لیے انہوں نے وزیرِ اعلیٰ ممتا بنرجی کو بی ایس ایف کے لیے زمین فراہم کرنے کے سلسلے میں سات خطوط بھیجے، لیکن ان سب کو نظرانداز کر دیا گیا۔
منگل کو کولکاتا میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا،
“میں نے بی ایس ایف کو زمین دینے کے معاملے پر وزیرِ اعلیٰ کو سات خطوط بھیجے ہیں۔ اس خاص مسئلے پر مغربی بنگال میں تین سیکریٹری سطح کی میٹنگز بھی ہو چکی ہیں۔ اس کے باوجود مغربی بنگال حکومت خاردار باڑ لگانے کے لیے زمین دینے میں کیوں ٹال مٹول کر رہی ہے؟”
انہوں نے کہا کہ اب بی ایس ایف پر غیر قانونی دراندازی روکنے میں ناکام رہنے کے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔
“میرا سوال یہ ہے کہ مناسب خاردار باڑ کے بغیر بی ایس ایف سرحدوں پر مؤثر طریقے سے سیکیورٹی کیسے یقینی بنا سکتی ہے؟”
مرکزی وزیرِ داخلہ نے کہا، “میں یقین دلاتا ہوں کہ بی جے پی کسی بھی حالت میں ایسی کسی سیاسی جماعت کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کرے گی جو غیر قانونی دراندازی کو فروغ دیتی ہو اور اپنے پکے ووٹ بینک کو بچانے کے لیے دراندازوں کو پالتی پوسیتی ہو۔ دراندازی ایک نہایت سنگین مسئلہ ہے، کیونکہ اس خطرے کی وجہ سے ریاست کی آبادیاتی ساخت بدل رہی ہے۔ اگر دراندازی کو نہیں روکا گیا تو آنے والے دنوں میں مغربی بنگال کے عوام کی مشکلات کئی گنا بڑھ جائیں گی۔”
انہوں نے مغربی بنگال حکومت پر یہ الزام بھی لگایا کہ چیف سیکریٹری اور ڈائریکٹر جنرل آف پولیس جیسے سینئر بیوروکریٹس اور پولیس افسران کی تقرری کے دوران سینٹرل سروس افسران کی کیڈر کنٹرولنگ اتھارٹی، یعنی محکمۂ پرسنل اینڈ ٹریننگ (ڈی او پی ٹی) کے قواعد کو کمزور کیا جا رہا ہے۔
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے متوا برادری کو یقین دہانی کرائی کہ شہریت (ترمیمی) قانون کے تحت شہریت کے لیے درخواست دینے والے افراد کے ووٹنگ حقوق محفوظ رہیں گے۔
انہوں نے کہا، “متوا برادری کے لوگوں کو کسی قسم کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ بھارت آنے والا ہر مہاجر شہری تسلیم کیا جائے گا۔ یہ بی جے پی کا وعدہ ہے۔ کوئی بھی انہیں نقصان نہیں پہنچا سکتا، ممتا بنرجی بھی نہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ دراندازوں کے خلاف مہم کے ساتھ ساتھ مہاجرین کا تحفظ بھی جاری رکھا جائے گا۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
