بھوپال کی برکت اللہ یونیورسٹی کا نام تبدیل کرنے کا عمل ایک قدم آگے بڑھ گیا ہے۔ یونیورسٹی کی ایگزیکٹیوکونسل (ای سی) نے ادارے کا نام بدل کرواگ دیوی بھوجپال یونیورسٹی رکھنے کی تجویزکومنظوری دے دی۔ اس تجویزکواب حتمی منظوری کے لئے گورنراورچانسلرمنگوبھائی پٹیل کوبھیج دیا گیا ہے۔
میٹنگ نے دلیل دی کہ راجہ بھوج ریاست کے تاریخی، ثقافتی اورفکری ورثے کی علامت ہے۔ اس کی بنیاد پریونیورسٹی کا نام ان کے نام پررکھنے کی تجویزکوایگزیکٹیوکونسل نے منظورکرلیا۔صرف نام تبدیلی ہی نہیں، یونیورسٹی کے اکیڈمک ڈھانچے میں تبدیلی کی تجویزپیش کی گئی ہیں۔ عربی اورفارسی جیسے روایتی مضامین کوتقابلی زبانوں اورثقافت کے شعبہ کے طورپردوبارہ ترتیب دیا جائے گا۔
کون تھے مولانا برکت اللہ؟
یونیورسٹی کا موجودہ نام مولانا برکت اللہ بھوپالی کے نام پررکھا گیا تھا، جوایک آزادی پسند اورانقلابی مفکرتھے۔ بھوپال میں پیدا ہوئے برکت اللہ نے برطانوی راج کے خلاف بین الاقوامی آزادی کی جدوجہد کوتقویت دی۔ وہ جلاوطنی میں ہندوستان کی عارضی حکومت سے بھی وابستہ تھے، جو1915 میں قائم ہوئی تھی اوران کا شمارملک کے ممتازترین انقلابیوں میں ہوتا ہے۔
کیا ہے آگے کی حکمت عملی؟
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
