عیدالاضحیٰ پر جانوروں کی قربانی کے خلاف وشو ہندو پریشد کے احتجاج پر تبصرہ کرتے ہوئے سماج وادی پارٹی کے رہنما اور سابق رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر ایس ٹی حسن نے کہا کہ بات ہندو مسلم اتحاد اور گنگا جمنی تہذیب کی ہونی چاہیے، لیکن اگر یہ لوگ اسی طرح بات کرتے رہے تو ہندوستان کمزور سے کمزور تر ہوتا جائے گا۔ آج ہم ٹرمپ کے سامنے جھک گئے، کل پوری دنیا کے سامنے جھکنا پڑے گا۔ڈاکٹر ایس ٹی حسن نے کہا کہ ان لوگوں کا کام صرف مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانا ہے۔ اب قربانی کا معاملہ آیا ہے تو لوگ سات آٹھ ہزار سال سے قربانی کرتے چلے آ رہے ہیں۔ قربانی پوری دنیا میں ہوتی ہے اور صرف مسلمان ہی نہیں، ہندو بھائی بھی بلی دیتے ہیں، قربانی کرتے ہیں۔ سب نے دیکھا ہے کہ اس سے کیا آلودگی ہوتی ہے؟ پٹاخے نہیں پھوڑے جا رہے ہیں؟ دھواں نہیں نکل رہا؟ ندیوں میں آلودگی نہیں ہو رہی ؟۔ ہم توقربانی کا خون بھی زمین میں دفن کر دیتے ہیں اور باقی ماندہ گوشت کو بھی، لیکن یہ لوگ ایسی تفرقہ انگیز باتیں کہہ کر ہندو اور مسلمانوں کو الگ کرنا چاہتے ہیں اور ہماری صدیوں پرانی محبت اور پیار کی ثقافت کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔
سابق رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ میں کہتا ہوں کہ صرف بکرا ہی کیوں، مرغی اور بھینس کو بھی مت ذبح کرو، کیا تماشہ بنا دیا ہے۔ لوگ آج ہندوستان میں گائے کا گوشت نہیں بیچ رہے، جو کچھ جنوبی ہندوستان، کیرالہ اور شمال مشرقی ہندوستان میں ہو رہا ہے اسے روکو۔ آپ کےمرکزی وزیر خود کہہ رہے ہیں کہ میں گائے کا گوشت استعمال کرتا ہوں۔ ایک مذہبی رہنما نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ بکرے کو مارنے والے برے ہیں، بکرے کو مارنے والے اپنی گردن خود کاٹ لیں۔ کیا پوری دنیا کے مسلمان برے ہو گئے ہیں؟ کیا بکواس کہتے ہیں یہ لوگ۔ اس طرح کی چیزیں ان کے اس عہدے پر رہتے ہوئے زیب نہیں دیتیں۔
ایس پی لیڈر نے کہا کہ ہر بار تہواروں کے دوران ایسے سیاسی جھگڑے ہوتے ہیں اور یہ ایسے جھگڑے ہیں جو لوگوں کے درمیان دوریاں پیدا کررہے ہیں۔ یہ لوگ نہیں جانتے کہ یہ جتنی دوریاں پیدا کریں گے ہمارا ملک اتنا ہی کمزور ہوتا جائے گا۔ مسلمانوں کی آبادی ملک میں کوئی عام آبادی نہیں ہے۔ مسلمانوں کی آبادی ملک کی دوسری بڑی آبادی ہے۔ ان لوگوں کا کام صرف نفرت پھیلانا اور لوگوں کو ایک دوسرے سے الگ کرنا ہے۔ وہ مذہبی لوگ نہیں ہو سکتے۔ یہ لوگ سوچتے ہیں کہ ایسی باتیں کہہ کرسی ایم یوگی کو خوش کردیں گے تو کچھ مل جائے گا۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

